بدین پولیس اور منشیات فروشوں کے مبینہ گٹھ جوڑ نے ایک اور گھر اجاڑ دیا

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو /ڈاٹ پی کے)بدین پولیس اور منشیات فروشوں کے مبینہ گٹھ جوڑ نے ایک اور گھر اجاڑ دیا۔ نشے کے عادی بیٹے کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ایک والد نے بدین پریس کلب میں احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا
تفصیلات کے مطابق بزرگ شہری پی الیاس سومرو نے اپنے نشئی اور نافرمان بیٹے کے خلاف بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بڑا بیٹا آئس (Ice) نشے کا عادی ہو چکا ہے اور روزانہ گھر میں فساد برپا کرکے پورے خاندان کی زندگی اجیرن بنا چکا ہے الیاس سومرو نے بتایا کہ وہ کوسکی روڈ پر بریانی کا ٹھیلہ لگا کر اپنے گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔ ان کے چار بیٹے ہیں جن میں سے بڑا بیٹا منشیات کی لت میں مبتلا ہو کر آئس کا عادی بن چکا ہے، جبکہ باقی بیٹے ابھی کم عمر ہیں
انہوں نے کہا کہ ان کے نشئی بیٹے کی حرکات کی وجہ سے پورا خاندان شدید خوف اور پریشانی کی زندگی گزار رہا ہے۔ ان کے مطابق بیٹا شادی شدہ ہے، اس کے تین بچے ہیں اور ایک بیٹی کی بھی اولاد ہے، مگر نشے کی لت میں مبتلا ہونے کے بعد وہ اپنی تمام ذمہ داریوں سے غافل ہو گیا ہے
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کا بیٹا رات گئے نشے کی حالت میں گھر آتا ہے، گھر والوں کو زبردستی گھر سے نکال دیتا ہے، بستر اور دیگر سامان جلا دیتا ہے اور ہر وقت قتل کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے الیاس سومرو کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا کئی مرتبہ چھری اور کلہاڑی سے حملہ کرنے کی کوشش بھی کر چکا ہے، جس کے باعث گھر کی خواتین اور بچے شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ متعدد بار پولیس کو اطلاع دے چکے ہیں اور درخواستیں بھی دے چکے ہیں، لیکن پولیس ان کے بیٹے کو گرفتار کرنے یا اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک محنت کش اور غریب شخص ہیں جو کوسکی روڈ پر بریانی کا ٹھیلہ لگا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، لیکن ان کا نشئی بیٹا روزانہ جھگڑے اور فساد کرکے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہا ہے انہوں نے انتہائی رنجیدہ آواز میں کہا کہ اگر ان کا بیٹا آئندہ کسی شخص کو جانی یا مالی نقصان پہنچاتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ آج ہی اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں الیاس سومرو نے کہا کہ ان کے بیٹے کو اپنے والدین، گھر والوں اور معصوم بچوں کا بھی کوئی احساس نہیں۔ وہ ہر وقت نشے کی حالت میں گھر میں ہنگامہ آرائی کرتا اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرتا رہتا ہے انہوں نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے نشئی بیٹے کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکےواضح رہے کہ بدین میں اس وقت آئس، سفینہ اور دیگر منشیات کے کاروبار میں مبینہ طور پر اضافہ ہو رہا ہے۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس روزانہ منشیات استعمال کرنے والوں کو گرفتار کرکے انہیں منشیات فروش ظاہر کرتی ہے اور ان کے خلاف مقدمات درج کرکے جیل بھیج دیتی ہے، جبکہ اصل منشیات فروش مبینہ طور پر بھتہ دے کر کھلے عام کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خبر کے مطابق اسی مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث متعدد گھر تباہ ہو چکے ہیں
بدین کی سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور محتسبِ اعلیٰ سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔



