حوثیوں کے حملوں کے بعد باب المندب سے جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی

صنعا(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں واقع تیل کی تنصیبات پر حملوں اور سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بحری تجزیاتی پلیٹ فارم کپلر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتوار کے روز صرف 11 تجارتی جہاز باب المندب آبنائے سے گزرے، جو گزشتہ کئی ماہ کے دوران سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان 11 جہازوں میں 7 آئل ٹینکر شامل تھے، جن میں سے 3 بحیرہ احمر میں داخل ہوئے جبکہ 4 بحیرہ احمر سے باہر نکلے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہفتہ اور اتوار کے دوران آبنائے ہرمز سے بھی یومیہ 10 سے کم جہاز گزرے، حالانکہ امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف حملے عارضی طور پر روک رکھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز صرف 3 جہاز ایسے تھے جنہوں نے اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے یہ راستہ اختیار کیا، جبکہ اتوار کو مجموعی طور پر 7 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں 3 ایران سے منسلک تیل بردار جہاز بھی شامل تھے، جو آبنائے ہرمز سے باہر نکلے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر اور خلیجی بحری راستوں میں کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل، تجارتی سرگرمیوں اور شپنگ انڈسٹری پر اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ آئندہ صورتحال کا انحصار خطے میں سکیورٹی اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button