پاکستان کو درآمدی منڈی نہیں، ایکسپورٹنگ پلیٹ فارم بنانا ہے، احسن اقبال

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے برآمدات میں غیر معمولی اضافہ کرنا ہوگا، جبکہ ملک کی معاشی سمت کو درآمدات اور رئیل اسٹیٹ پر مبنی کاروباری ماڈل سے نکال کر برآمدات کی طرف موڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آٹو اور وینڈر انڈسٹری نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران نئی پیداواری صلاحیت پیدا کی ہے اور ہر آٹو پارٹ کے پیچھے ایک کاروباری، انجینئر اور انٹرپرائز ڈویلپمنٹ کی کہانی موجود ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی بھی معیشت کی پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط مینوفیکچرنگ انڈسٹری فراہم کرتی ہے، پاکستان کو نان ٹریڈیشنل سیکٹرز اور انجینئرنگ انڈسٹری کو فروغ دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف روایتی مصنوعات کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا، اس کے لیے پیداواری ڈھانچے میں ویلیو ایڈیشن لانا اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ حکومت نے 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ماضی میں برآمداتی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرنا رہی ہے، اب ملک کو درآمدی منڈی کے بجائے ایک ایکسپورٹنگ پلیٹ فارم بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے برآمدات اب قومی ترجیح بن چکی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے برآمدات میں تیزی لانے کے لیے پیداواری صلاحیت، معیار، جدت اور عالمی مسابقت پر توجہ دی جارہی ہے۔
وفاقی وزیر نے برآمدات بڑھانے کے لیے پروڈکٹیوٹی، کوالٹی اور انوویشن کو بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعت کو یونیورسٹیوں کے ساتھ جوڑ کر تحقیق و ترقی کے شعبے کو فروغ دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آٹو پارٹس انڈسٹری ملک کا بڑا اثاثہ ہے، اس کی صلاحیت کو مزید وسعت دینے کے ساتھ پاکستانی آٹو پارٹس کو عالمی سپلائی چین سے منسلک کرنا ہوگا۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان شراکت داری کے ذریعے پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ صرف معاشی ہدف نہیں بلکہ پاکستان کی طویل مدتی معاشی خودمختاری کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔



