زرعی زمینیں شہر بن گئیں تو کیا ہوگا؟ احسن اقبال نے خطرناک صورتحال سے خبردار کردیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی، خوراک کی ضروریات اور پانی کی قلت نے مستقبل کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ اگر زرعی زمین کو تیزی سے شہری آبادی میں تبدیل کرنے اور زیرِزمین پانی کے بے دریغ انخلا کا سلسلہ نہ روکا گیا تو ملک کو مستقبل میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تیزی سے آبادی بڑھنے والے ممالک میں شامل ہے، جس کے باعث فوڈ سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑھتی آبادی کے ساتھ پانی کی فی کس دستیابی کے معاملے میں بھی پاکستان مزید تنزلی کی جانب جارہا ہے، جبکہ پانی کے محدود وسائل مستقبل میں ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاہم یہ شعبہ مختلف کمزوریوں کا شکار ہے اور قومی صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زرعی زمین کو تیزی سے شہروں میں تبدیل کیا جارہا ہے، جو مستقبل کی غذائی ضروریات کے لیے خطرناک رجحان ثابت ہوسکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر شہروں کو باقاعدہ ضابطہ اخلاق اور مؤثر منصوبہ بندی کے تحت نہ لایا گیا تو آنے والے وقت میں بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
احسن اقبال نے زیرِزمین پانی کے بے تحاشا انخلا کو بھی سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیرِزمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ ریچارج کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بلدیاتی اداروں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی ادارے وسائل سے محروم ہیں جبکہ صوبوں کے پاس وسائل صوابدیدی اختیار کے تحت جاتے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق بڑھتی آبادی، کم ہوتے آبی وسائل، زرعی زمین میں کمی اور شہری پھیلاؤ جیسے مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کو مستقبل میں خوراک اور پانی کے حوالے سے مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔



