لبنان میں اقوامِ متحدہ کی موجودگی برقرار رکھنا ضروری ہے،انتونیو گوتریس

نیویارک (جانوڈاٹ پی کے)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی موجودگی ضروری ہے۔
سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سال کے آخر میں یونائٹیڈ نیشن انٹرم فورس اِن لبنان کا مینڈیٹ ختم ہونے کے بعد بھی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی موجودگی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے، رابطہ کاری کو فروغ دینے اور لیبنیز آرمڈ فورسز کی معاونت کے لیے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا لبنان میں ہونا ضروری ہے۔ انھوں کہا اس وقت جنوبی لبنان میں تقریباً 7500 امن فوجی تعینات ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی دباؤ کے تحت فیصلہ کیا تھا کہ لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفل) کا مینڈیٹ 31 دسمبر 2026 کو ختم کر دیا جائے گا۔
تاہم سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے یکم جون تک ایسے متبادل آپشنز پیش کرنے کی درخواست کی تھی جن کے تحت اقوام متحدہ کے امن دستے لبنان میں موجود رہ سکیں، خصوصاً بلیو لائن کی نگرانی کے لیے۔ یہ 120 کلومیٹر (75 میل) طویل لائن لبنان اور اسرائیل کے درمیان عملی سرحد سمجھی جاتی ہے اور اس وقت اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کا مرکزی محاذ بنی ہوئی ہے۔
پیر کے روز اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں گوتریس نے تین مختلف آپشنز تجویز کیے ہیں، جن کے تحت تقریباً 2 ہزار سے لے کر 5 ہزار 500 سے زائد اقوام متحدہ کے اہلکار جنگ بندی کی نگرانی اور لبنانی مسلح افواج کی معاونت کے لیے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’تمام مجوزہ آپشنز کے تحت کشیدگی میں کمی، مذاکرات، رابطہ کاری اور لبنانی مسلح افواج کی معاونت کے لیے اقوام متحدہ کی وردی میں ملبوس فورس کی موجودگی ضروری ہوگی، تاکہ تنازع کے دیرپا حل کے وسیع تر مقصد کی جانب پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔‘‘
یونیفل کے انخلا سے متعلق خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں پر قابض ہے، جب کہ اسرائیل اور لبنان کئی دہائیوں پر محیط دشمنی کے خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ یونیفل میں اس وقت تقریباً 50 ممالک کے 7 ہزار 500 امن اہلکار شامل ہیں، جو بلیو لائن کے قریب جنوبی لبنان میں تعینات ہیں۔
یہ فورس 1978 سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان بفر زون کا کردار ادا کر رہی ہے، اگرچہ اس کی موجودگی کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان متعدد بار تنازعات اور جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ نے کہا ’’یونیفل کا مینڈیٹ ختم ہونے کے قریب ہے، اس لیے سلامتی کونسل کو ایک ذمہ دارانہ فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ لبنان میں اقوام متحدہ کی موجودگی برقرار رہے اور کسی بھی سیکیورٹی خلا کو روکا جا سکے۔‘‘ تاہم امریکا اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل نے گزشتہ اگست میں یونیفل کے خاتمے سے متعلق ووٹنگ کا خیر مقدم کیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کی امن مشنز کی مؤثریت پر سوالات اٹھاتی رہی ہے اور اس نے ان مشنز کی معاونت کے لیے امریکی مالی تعاون کا ایک حصہ روک رکھا ہے، جس کے باعث اقوام متحدہ کو دنیا بھر میں اپنے امن دستوں کی تعداد کم کرنا پڑی۔



