پنکی کی پیشی کے دوران چیخ و پکار، ملزمہ کی بات پوری سنی جائے گی، عدالت

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا، تاہم ملزمہ نے عدالت پیشی کے دوران چیخ وپکار شروع کردی۔
عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ اسے کسی قسم کا ہراساں نہیں کیا جائے گا اور اس کا مکمل مؤقف سنا جائے گا۔
سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل اور ملزمہ دونوں کا مکمل مؤقف سنا جائے گا۔
جج نے ملزمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ سانس لیں، آرام سے، میں آپ کی مکمل بات سنوں گا۔
دورانِ سماعت ملزمہ کے وکلا نے کورٹ روم کا دروازہ بند کرنے کی درخواست کی، تاہم جج نے کہا کہ وہ کورٹ روم کا دروازہ بند نہیں کر سکتے۔
عدالت نے ملزمہ سے اس کا نام دریافت کیا، جس پر اس نے بتایا کہ اس کا نام انمول ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کو ایف آئی آر نمبر 147، تھانہ بغدادی کے مقدمے میں پیش کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی عمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ پہلا آرڈر موبائل فون میں موجود ہے۔
عدالت نے ملزمہ انمول سے سوال کیا کہ آپکی طبعیت اب ٹھیک ہے، جس پر ملزمہ نے بتایا کہ میرے خلاف بیس سے پچیس مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ نظرثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سابقہ دونوں آرڈرز عدالت میں پیش کیے جائیں۔
دورانِ سماعت عدالت نے تفتیشی افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ انوسٹی گیشن ہے آپ کی؟
ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کو 15 مئی کو پیش کیا جانا چاہیے تھا، جبکہ بائیس دن ہوگئے ہیں کبھی کہاں تو کبھی کہاں لے کر جارہے ہیں۔
ملزمہ انمول نے عدالت میں بتایا کہ اسے لاہور سے پولیس وین کے ذریعے کراچی لایا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ تین روزہ ریمانڈ کے دوران کیا پیش رفت ہوئی، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ اب تک سات افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ملزمہ تعاون کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کی نشاندہی پر مختلف مقامات سے ریکوری بھی کی جا رہی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ایک منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہی ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ کیسز کی تفصیلات عدالت کو مکمل طور پر سمجھانے میں دشواری پیش آئی کیونکہ ملزمہ کے خلاف تین مختلف مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ طویل عرصے سے منشیات کے کاروبار میں ملوث رہی ہے اور اب تک قانون کی گرفت سے بچتی رہی، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کردی گئی ہیں اور ملزمہ کے موبائل ریکارڈ سے تقریباً آٹھ سو ایسے نمبرز ملے ہیں جنہیں مبینہ طور پر منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ نے اپنا ایک مخصوص برانڈ بنا رکھا تھا اور وہ دعویٰ کرتی تھی کہ جو ایک بار یہ منشیات استعمال کرے، وہ کسی اور برانڈ کی طرف نہیں جاتا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے گینگ میں غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں جبکہ پنجاب سے آ کر کراچی میں نوجوانوں کو منشیات فراہم کی جا رہی تھی۔
پولیس کے مطابق ایک لاش بھی ملی تھی، جس کے موبائل فون سے ملزمہ کے نیٹ ورک کا نمبر برآمد ہوا، اس کے علاوہ کروڑوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کا بھی سراغ ملا ہے۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمان کا شناختی کارڈ بلاک ہے اور وہ سادہ شہریوں کے نام پر سمز حاصل کرکے استعمال کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق دو دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے جنہیں جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا، ذیشان نامی شخص کے اکاؤنٹ میں ادائیگیاں موصول ہوتی تھیں اور سکرین شاٹس کی تصدیق کے بعد ملزمہ منشیات کی ڈیلیوری بھجواتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹ ورک کے رائیڈرز اور سہولت کاروں کی گرفتاری ابھی باقی ہے اور پولیس ملزمہ کی نشاندہی پر ان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملزمہ کے بھائی کے خلاف پہلے سے چھ مقدمات درج ہیں جبکہ چھوٹا بھائی لاہور سے منشیات کا مبینہ نیٹ ورک چلا رہا ہے۔



