گودھیار تنازعہ:فریال ٹالپر کا سخت نوٹس،تھرپارکر کی پیپلز پارٹی قیادت کراچی طلب

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما میڈم فریال ٹالپر نے مٹھی کے قریب گاؤں گوڌیار میں سومرا برادری کی دو دھڑوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جاری تنازعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تھرپارکر کی پارٹی قیادت کو کراچی طلب کر لیا۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں ہونے والے اہم اجلاس میں ایم پی اے ارباب لطف اللہ ، ایم پی اے قاسم سراج سومرو، صوبائی۔معاون دوست محمد راہمون، ضلعی چیئرمین غلام حیدر سمیجو، ایم این ای ڈاکٹر مہیش کمار ملانی اور فقیر شیر محمد بلالانی نے شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے تمام پیپلز پارٹی رہنماؤں سے سخت باز پرس کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مہیش کمار ملاّنی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پیپلز پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے دن رات کوششوں میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق فریال ٹالپر نے ڈاکٹر مہیش ملاّنی سے سوال کیا کہ تھرپارکر کا ہر منتخب نمائندہ ان کے خلاف کیوں شکایات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط کرنے کے بجائے ذاتی انا کی بنیاد پر اختلافات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ فریال ٹالپر نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر کھٹومل، ارباب لطف اللہ اور انجینئر گیان چند سمیت کئی رہنماؤں کے ساتھ ڈاکٹر مہیش ملاّنی کا رویہ مناسب نہیں رہا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران فقیر شیر محمد بلالانی غیر جانبدار رہے اور تمام حقائق سے قیادت کو آگاہ کرتے رہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس کے اختتام پر فقیر شیر محمد بلالانی اور ڈاکٹر مہیش کمار ملاّنی بغیر تصویر بنوائے واپس روانہ ہوگئے۔
ملاقات کے بعد میڈم فریال ٹالپر نے فیصلاکن کمیٹی جوڑ دی اور تحقیقات کا حکم دیا۔
دوسری جانب عوامی رائے لینے پر پیپلز پارٹی کے ایک سینئر کارکن نے کہا کہ پارٹی کے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ بیشتر رہنما صرف اپنے مفادات اور قریبی افراد کو نوازنے میں مصروف ہیں۔
ادھر میگھواڑ برادری کے چند سماجی رہنماؤں نے کہا کہ ڈاکٹر مہیش کمار ملاّنی اور ارباب لطف اللہ کی میگھواڑ برادری سے متعلق پالیسی ایک جیسی ہے اور دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ دونوں رہنما پیپلز پارٹی میں موجود ہیں، پارٹی کے پرانے کارکن مشکلات کا شکار رہیں گے۔



