سکھر:مسلم لیگ ن کے رہنما عیدالقیوم کی پٹرول پمپ پر مبینہ قبضے کیخلاف پریس کانفرنس

سکھر(بیورو رپورٹ)سکھر کے معروف تاجر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما عبدالقیوم قریشی نے پیٹرول پمپ پر مبینہ قبضے کے خلاف سکھر پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر آئینی پٹیشن 2025/D-940 سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں دائر کردی گئی ہے، جس میں پی ایس او کےجنرل منیجر، میئر سکھر، میونسپل کمشنر اور دیگر پی ایس او افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔عبدالقیوم قریشی کا کہنا تھا کہ 9 جولائی کو میونسپل انٹی انکروچمنٹ فورس کی مدد سے اُن کے پیٹرول پمپ پر زبردستی قبضہ کیا گیا۔ اس دوران متعلقہ عملے نے نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ قیمتی مشینری کو نقصان پہنچایا، اہم دستاویزات، سامان اور لاکھوں روپے نقدی لوٹ لی گئی۔انہوں نے بتایا کہ واقعے کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا گیا، جہاں سے درخواست منظور ہونے پر فریقین کو نوٹس جاری ہوئے، مگر اس کے باوجود پیٹرول پمپ کی عمارت مسمار کرتے ہوئے دیواریں گرا دی گئیں اور میونسپل کارپوریشن کی گاڑیاں کھڑی کرکے مکمل قبضہ کرلیا گیا۔پریس کانفرنس میں عبدالقیوم قریشی نے مزید الزام عائد کیا کہ پی ایس او کے ایم ڈی نے مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے کروڑوں روپے کی جعلی ٹرانزیکشن کی ہوئی ہے، جس کے خلاف پہلے ہی عدالت میں درخواست زیر سماعت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ نے ان سے رابطہ کرکے 10 کروڑ روپے رشوت کے عوض معاملہ حل کرانے کا مبینہ دباؤ ڈالا، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔ اس کے بعد ان کے مطابق ایم ڈی پی ایس او، میئر اور دیگر افسران کی جانب سے انہیں درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ، ہراساں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے دوران اسٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے پیٹرول پمپ کی پیٹرول سپلائی بند کرنے کا حکم دیا، مگر حکم کے باوجود پمپ مالکان مبینہ طور پر دوسری جگہ سے پیٹرول خرید کر پمپ کو آپریشنل رکھے ہوئے ہیں، جس پر انہوں نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا ہے۔عبدالقیوم قریشی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے 18 نومبر کو مرکزی کیس اور CMA No: 4744/2025 (1 Rule 10)، 3992/2025 (Stay A) کی سماعت کے لیے پانچ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر عبدالقیوم قریشی نے کہا کہ پٹیشن میں نامزد ملزمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انہیں مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ، وزیراعظم پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ اس “غیر آئینی و غیر قانونی کارروائی” میں ملوث بااثر افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف دلایا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button