اسلام آباد ہائیکورٹ نے اے این ایف کی نئی بھرتیوں پر عملدرآمد روک دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں کے لیے جاری اشتہار پر عملدرآمد عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے متعلقہ کارروائی مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک روک دی۔
جسٹس محمد اعظم خان نے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ بھرتیوں کے اشتہار پر مزید عملدرآمد فی الحال نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم مرکزی درخواست کے میرٹ پر رائے دیے بغیر جاری کیا گیا ہے۔
عدالت نے متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے نمٹا دی، جبکہ مرکزی کیس کی مزید سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی۔
یہ درخواست اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے دائر کی، جس میں وزارت داخلہ، وزارت قانون اور ڈی جی اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق وہ گزشتہ 10 برس سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، مگر اسے تاحال ترقی نہیں دی گئی۔ اس کا کہنا ہے کہ 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظرانداز کیا گیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا سروس رولز کے خلاف ہے۔ مزید کہا گیا کہ موجودہ ملازمین کی ترقی کے حق کو نظرانداز کرکے براہِ راست بھرتیاں کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی تقرریوں کا جائزہ لیا جائے، اے این ایف کے سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے، حالیہ بھرتیوں کا اشتہار کالعدم قرار دیا جائے اور تمام خالی آسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے فوری طور پر ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جائے۔



