طالبہ فہمیدہ لغاری کے موبائل کی فرانزک رپورٹ نہ آنے پرورثاکااحتجاجی دھرنےکااعلان

میرپورخاص(رپورٹ:شاھدمیمن)میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کے موبائل کی فرانزک رپورٹ تاحال نہ آنے پر ورثاء کی جانب سے احتجاجی دھرنے کااعلان، یونیورسٹی انتظامیہ پر کیس دبانے کا الزام

تفصیلات کے مطابق نجی یونیورسٹی کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی مبینہ ہراسانی کے بعد خودکشی کے واقعے کو تین ماہ اور 24 دن گزر جانے کے باوجود موبائل فون کی فرانزک رپورٹ سامنے نہ آنے پر ورثاء نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی دہرنے کا اندیہ دے دیا، میرپورخاص پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فہمیدہ لغاری کے والد انتظار حسین، والدہ عابدہ پروین، بہن مہک فاطمہ اور ماموں ڈاکٹر وسیم نے کہا کہ انہوں نے ایس ایس پی میرپورخاص سید فدا حسین شاہ سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں بتایا کہ فرانزک کے لیے لاہور بھیجے گئے موبائل فون کا لاک اب تک نہیں کھل سکا جس کے باعث رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی ورثاء کا کہنا تھا کہ فہمیدہ کا ایک عام موبائل فون تھا جسے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آسانی سے کھولا جا سکتا ہے اس لیے اتنی طویل تاخیر کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے ڈاکٹر وسیم نے مزید بتایا کہ کیس کی تحقیقاتی افسر ایس ایس پی سہائی عزیز ٹالپر نے بھی انہیں آگاہ کیا کہ فہمیدہ کو بلیک میل کرنے کے لیے بنائی گئی مبینہ جعلی آئی ڈی بھی اب تک کھولی نہیں جا سکی ورثاء نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنے مبینہ کردار کو چھپانے اور کیس کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اس کیس کی شفاف اور اعلیٰ معیار کی تحقیقات کی جائیں گی تاہم اب تک انہیں انصاف نہیں ملا انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر سندھ کے وزیراعلیٰ کے مشیر ویرجی کولہی کو بھی تحریری درخواست دے کر انصاف کی اپیل کی گئی ہے پریس کانفرنس کے اختتام پر ورثاء نے اعلان کیا کہ اگر انہیں جلد انصاف نہ ملا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی دہرنا دیں گے جبکہ مختلف سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ان کا ساتھ دیں۔

مزید خبریں

Back to top button