تھرپارکر:تعلقہ ڈیپلو میں اسپتال کی تعمیر کیلئے منتخب مقام کیخلاف عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی) تھرپارکر کے تعلقہ ڈیپلو میں نئی تعلقہ اسپتال کی تعمیر کے لیے منتخب مقام کے خلاف عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ پرانی جگہ پر اسپتال تعمیر کرنے کے منصوبے کے خلاف ہزاروں شہریوں نے بدین چوک سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی پریس کلب اور اللہ والا چوک پہنچی، جہاں مظاہرین نے دھرنا دے کر شدید نعرے بازی کی۔احتجاجی ریلی کی قیادت جے یو آئے کے رہنما مولوی محمد عباس کلر، یاسین لطیف، ایڈووکیٹ سبحان سمیجو، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ٹاؤن چیئرمین موہن لال میگھواڑ، عوامی تحریک کے رہنما محمد عمر بجیر، لوک فنکار اکبر ڈیپلائی اور دیگر نے کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شہر کے مستقبل سے متعلق فیصلے چند افراد بند کمروں میں بیٹھ کر نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلے وڈیروں کی اوطاقوں میں نہیں بلکہ عوام کی رائے، شہر کے میدانوں اور چوراہوں میں ہوں گے، جہاں غریب، مزدور اور متاثرہ عوام کی آواز کو اہمیت دی جائے گی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے تعمیر ہونے والی نئی تعلقہ اسپتال کو کسی ایسی بلند، محفوظ اور کشادہ جگہ پر تعمیر کیا جائے جہاں مستقبل میں بارشوں اور سیلابی پانی کا خطرہ نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نشیبی اور پانی جمع ہونے والی زمین پر اسپتال کی تعمیر قومی وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ اپنے مؤقف سے آگاہ کرنے کے لیے ورلڈ بینک کو بھی باضابطہ خط ارسال کریں گے اور عوامی رائے کے مطابق منصوبے پر نظرثانی کا مطالبہ کریں گے۔ اس موقع پر سابق ٹاؤن چیئرمین موہن لال میگھواڑ نے کہا کہ موجودہ اسپتال کی عمارت پر ہر سال مرمت کی مد میں دو سے تین کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن نشیبی اور سیلاب سے متاثر ہونے والی زمین کی وجہ سے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جگہ محدود رقبے پر مشتمل ہے، جہاں مستقبل کی ضروریات کے مطابق 100 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کی مکمل تعمیر ممکن نہیں۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ اسپتال کو پرانی جگہ پر تعمیر کرانے کے لیے دانستہ سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے، جس سے کرپشن کے راستے کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عوامی خواہشات، فنی ماہرین کی رائے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپتال کی جگہ کے حوالے سے نئے سرے سے فیصلہ کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button