بدین،ہندو لڑکی کی بازیابی کیلئے لواحقین کا احتجاج

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)بدین کے نواحی شہرلنواری شریف کے قریب واقع گاؤں اشرف آباد کی مکین ہندو میگھواڑ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی نوجوان لڑکی پوجا دختر ڈاڑھوں میگھواڑ کی بازیابی اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیئے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مغوی لڑکی کے ورثا اشوک کمار، جعمون میگھواڑ، مرچو، ویرو، داڑھوں، ہیرو اور دیگر خاندان کے افراد کا کہنا تھا کہ وہ بااثر زمیندار نظر محمد انڑ کے بیٹے نثار علی انڑ کے پاس ہاری اور ٹریکٹر ڈرائیور کے طور پر کام کرتے رہے، جہاں ان کی محنت کی کمائی کے تقریباً 10 سے 15 لاکھ روپے واجب الادا ہیں جب انہوں نے اپنی بچی پوجا میگھواڑ کی شادی کے لیے اپنی بقایا رقم کا مطالبہ کیا تو تقریباً پانچ سے چھ روز قبل ان کی بہن کو گاؤں اشرف آباد سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں شبہ ہے کہ ان کی بہن کو نثار علی انڑ نے اغوا کرایا ہے مبینہ طور پر مغوی لکڑکی کے ورثاء کا کہنا ہے کے واقعے کا مقدمہ درج کرایا جا چکا ہے تاحال نہ تو مغوی لڑکی کو بازیاب کرایا گیا ہے اور نہ ہی نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے سنجیدہ کارروائی کرنے کے لیئے پولیس ہم سے پولیس موبائل میں تیل ڈلوانے کے پیسے مانگ رہی ہے پھر ملزمان کو گرفتار ان کا کہناہے کے منامزد ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے پولیس کارروائی سے گریز کر رہی ہے ہم غریب اور سیاسی سفارشی نہ ہونے کے باعث انہیں انصاف نہیں مل رہا مغوی لڑکی کے ورثا نے آئی جی سندھ ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر اغوا شدہ پوجا میگھواڑ کو فوری بازیاب کرایا جائے اور نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عمل نہ کیا گیا تو وہ ایس ایس پی آ فیس بدین کے سامنے احتجاج کرکے لڑکی کی بازیابی اور ملزم کی گرفتاری تک دھرنا دینگے

مزید خبریں

Back to top button