عالمی غیر یقینی کے ماحول میں سونے کی مانگ بڑھ گئی، سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بننے لگا

نیویارک (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، معاشی غیر یقینی اور توانائی کے بحرانوں کے باعث سونا ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی، تاہم طویل مدت میں اس دھات نے سرمایہ کاروں کو نمایاں منافع فراہم کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2000 کے بعد سے جسمانی سونے نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں بہتر مجموعی کارکردگی دکھائی، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سونے کی قدر میں تقریباً 122 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی معاشی غیر یقینی کے ماحول میں سونا ایک ایسے اثاثے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کرنسیوں اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کی مقبولیت کے بعد سونے میں سرمایہ کاری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے، جس سے عام سرمایہ کاروں کی اس مارکیٹ تک رسائی بھی بڑھ گئی ہے۔

تاہم مالیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت صرف حالیہ قیمتوں کو بنیاد بنانے کے بجائے طویل مدتی مالی اہداف، ممکنہ خطرات اور مجموعی مارکیٹ صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں سونا آئندہ بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم محفوظ اثاثہ رہ سکتا ہے، اگرچہ مختصر مدت میں اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار رہے گا۔

مزید خبریں

Back to top button