ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا درجنوں فضائی ایندھن بردار (ری فیولنگ) طیارے اسرائیل بھیج رہا ہے، جبکہ زیر غور منصوبوں میں ایران کے بجلی گھروں، اہم انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات بھی شامل ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق واشنگٹن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا اور تہران کو اپنے جوہری مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مزید امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی حتمی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی، اگرچہ آنے والے دنوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں شہری جہازوں اور بعض ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنایا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کو ایران کی حملہ آور صلاحیت محدود کرنے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ جن ممالک کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، وہ ممکنہ ایرانی ردعمل کے لیے تیار رہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے ممالک شہری دفاعی اقدامات فعال کریں اور شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور رکھیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈے رکھنے والے ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور خطے میں امن کی بحالی تک ایران اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ ایگزیوس کی رپورٹ میں بیان کیے گئے منصوبے امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، جبکہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔



