روٹی25،نان35روپے کا بیچیں گے!نان بائیوں اورمحکمہ خوراک میں تنازع شدت اختیارکرگیا،تندور بندکرنے کی بھی دھمکی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب میں روٹی اور نان کی قیمتوں کے تعین پر نان بائی ایسوسی ایشن اور محکمہ خوراک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جبکہ اس معاملے پر آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے نان بائی ایسوسی ایشن نے ہفتے کے روز اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آٹے، گیس، بجلی اور دیگر اخراجات میں اضافے کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد روٹی اور نان کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔ نان بائی ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر روٹی کی قیمت 25 روپے جبکہ نان کی قیمت 35 روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران خام مال، ایندھن اور مزدوری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث موجودہ سرکاری نرخوں پر روٹی اور نان کی فروخت ممکن نہیں رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے زبردستی پرانے نرخ نافذ کرنے کی کوشش کی تو صوبے بھر میں تندور بند کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت اور محکمہ خوراک تاحال روٹی اور نان کے نئے سرکاری نرخ مقرر نہیں کر سکے، جس کے باعث نانبائیوں اور حکام کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ حکومتی سطح پر مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ نانبائیوں کے تحفظات بھی دور کیے جا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روٹی اور نان کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے عام شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کے گھریلو اخراجات پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے حوالے سے جلد واضح فیصلہ کیا جائے تاکہ غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو اور کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔



