امریکا کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، تہران نے جہاز رانی معمول پر لانے کا عندیہ دے دیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے تین امریکی عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی سطح پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلی ہے اور تجارتی جہازوں پر حملے بند کر دیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام براہِ راست تہران تک پہنچایا ہے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق تجارتی جہازوں پر حالیہ حملے تین ہفتے قبل دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ موجودہ بحران نے اس نازک معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایگزیوس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج مسقط میں عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کریں گے، جس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، سمندری تحفظ اور علاقائی کشیدگی پر بات چیت متوقع ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ملاقات کے بعد ایران جہاز رانی کا راستہ کھلا رکھنے اور حملے روکنے سے متعلق عوامی بیان جاری کرے گا۔ ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمدورفت معمول پر لانے کے لیے ذمہ داری قبول کی ہے اور اس مقصد کے لیے عمان کے ساتھ تعاون کرے گا۔

تاہم ایرانی ترجمان نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران اس معاملے پر واشنگٹن سے بات چیت نہیں کرے گا۔

مزید خبریں

Back to top button