بدین میں بدامنی کیخلاف سومرا برادری کا 17 جولائی کو احتجاجی ریلی اور دھرنے کا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ ڈاٹ/ پی کے)سومرا برادری کی مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں نے بدین پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضلع میں بڑھتی ہوئی بدامنی، منشیات فروشی، ڈکیتیوں اور چوری کی وارداتوں کے خلاف 17 جولائی کو احتجاجی ریلی اور دھرنے کا اعلان کر دیا تفصیلات کے مطابق، سومرا برادری کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بدین میں بدامنی منشیات، ڈکیتیوں، چوری کی وارداتوں اور مسلح جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث عام شہری، خصوصاً مزدور، کسان، تاجر اور دیہی آبادی شدید خوف و ہراس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع کے مختلف علاقوں، بالخصوص شہر سے دور اور مضافاتی دیہات میں گاڑیوں مویشیوں، گھریلو سامان اور دیگر قیمتی اشیا کی چوریاں روز کا معمول بن چکی ہیں جبکہ مسلح ڈاکو موٹر سائیکلوں پر گشت کرتے ہوئے شہریوں کو سرعام لوٹ رہے ہیں۔ محنت مزدوری کرکے شام کو گھروں کو واپس جانے والے غریب افراد سے راستے میں موٹر سائیکلیں، آٹا، راشن، نقد رقم اور دیگر سامان بھی چھین لیا جاتا ہے رہنماؤں نے کہا کہ متعدد واقعات کے حوالے سے قانونی طریقہ کار کے مطابق بدین پولیس کو آگاہ کیا گیا ایف آئی آرز درج کرائی گئیں ایس ایس پی بدین سے وفود کی صورت میں ملاقاتیں بھی کی گئیں جبکہ ڈی ایس پی کی نگرانی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تک کسی بھی ملزم کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی انہوں نے مزید کہا کہ بدین کا ہر شہری اور ہر برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں پریس کانفرنس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ چوروں، ڈاکوؤں، منشیات فروشوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ضلع میں امن و امان کی صورتحال فوری طور پر بحال کی جائے اس موقع پر سومرا برادری کی مختلف تنظیموں نے اعلان کیا کہ بدین میں بڑھتی ہوئی بدامنی، منشیات، ڈکیتیوں اور چوری کی وارداتوں کے خلاف جمعہ 17 جولائی کو اللہ والا چوک سے ایس ایس پی آفس بدین تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جس کے بعد ایس ایس پی آفس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا انہوں نے بدین کے تمام شہریوں، سماجی تنظیموں، تاجروں، کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق، امن اور انصاف کے لیے اس پرامن احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔



