غیرملکی خواتین کیس میں سنسنی خیز موڑ،علی ڈارکی سیف سٹی تصاویرلیک،اسحاق ڈارکی وزارت خطرے میں!

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی سیاست کو ہلا کر رکھ دینے والے غیر ملکی خواتین کے ہائی پروفائل کیس میں انتہائی سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس نے حکمران اتحاد اور مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق اس حساس ترین کیس کے ڈانڈے اسحاق ڈار کے قریبی خاندان سے جا ملے ہیں، جہاں متاثرہ خاتون نے دفعہ 164 کے باقاعدہ بیان میں اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کا نام شامل کیا ہے، جبکہ کہانی میں سب سے بڑا دھماکہ خیز موڑ اس وقت آیا جب سیف سٹی لاہور کی خفیہ فوٹیج اور تصاویر میں اسحاق ڈار کے صاحبزادے اور نواز شریف کے داماد علی ڈار کی مبینہ موجودگی کا انکشاف ہوا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ علی ڈار ان خواتین کو اسلام آباد، مری اور پنڈی میں خود لے کر گھومتے رہے ہیں، تاہم سی سی پی او لاہور فیصل کامران نے مبینہ طور پر ان تصاویر کو کسی دراز میں چھپا دیا ہے تاکہ میرٹ کو خراب کیا جا سکے، جس کے باعث ان کی اپنی گرفتاری کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے حمزہ شہباز کا راستہ روکنے کے لیے علی ڈار کو پنجاب کی سیاست میں آگے بڑھایا تھا، جو دبئی میں کرپٹو کرنسی کے مبینہ فراڈ کے بعد پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ اس ڈرامائی صورتحال پر اج رات یا کل ایک انتہائی اہم ہنگامی میٹنگ متوقع ہے، جس میں وزیر اعظم، مریم نواز اور اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ شخصیات کے سامنے یہ تصاویر رکھی جائیں گی، جہاں اسحاق ڈار کی وزارتِ خارجہ کے پتے صاف ہونے کا قوی امکان ہے۔ حیران کن طور پر پولیس یا ایجنسیوں نے خواتین کو بازیاب نہیں کروایا بلکہ متاثرہ خواتین نے گاڑی دھیمی ہونے پر خود شور مچا کر ون فائیو کی مدد سے اپنی جان بچائی۔




