تھرپارکر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگی کے دوران مبینہ کٹوتیوں پر احتجاج

تھرپارکر(رپورٹ:ميندھرو کاجھروي/جانو ڈاٹ پی کے)ضلع تھرپارکر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی نئی مالی قسط کی ادائیگی کے دوران مستحق خواتین کے وظیفے میں مبینہ غیرقانونی کٹوتیوں کی شکایات سامنے آنے کے بعد متاثرہ خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خواتین کے مطابق مٹھی، اسلام کوٹ، ڈیپلو، کلوئی، چھاچھرو، ننگرپارکر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں بعض ڈیوائس ہولڈرز ادائیگی کے وقت مختلف جواز پیش کرتے ہوئے ان کے وظیفے میں ایک ہزار سے دو ہزار روپے تک، جبکہ بعض مقامات پر دو ہزار سے چار ہزار روپے تک کی مبینہ کٹوتی کر رہے ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بنیادی وظیفے کے ساتھ بچوں کے تعلیمی وظیفے کی رقم بھی شامل ہونے کے باعث انہیں زیادہ ادائیگی موصول ہو رہی ہے، جس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض ڈیوائس ہولڈرز اپنی مرضی سے رقم کاٹ رہے ہیں۔ دور دراز اور صحرائی علاقوں سے طویل سفر کرکے بھاری سفری اخراجات برداشت کرنے والی خواتین نے شکایت کی کہ انہیں سفر کے اخراجات کے علاوہ وظیفے میں بھی مبینہ کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرین نے مزید الزام عائد کیا کہ کئی شہروں میں بعض ڈیوائس ہولڈرز نے سرکاری مراکز کے بجائے اپنی پسند کی جگہوں پر ادائیگی پوائنٹس قائم کر رکھے ہیں، جہاں مستحق خواتین سے مختلف بہانوں کے تحت رقم کاٹی جا رہی ہے۔ سماجی رہنماؤں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کرائیں، ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر مستحق خاتون کو اس کا مکمل وظیفہ بغیر کسی غیرقانونی کٹوتی کے فراہم کیا جائے۔



