بدین میں جعلی سرکاری بھرتیوں کا مبینہ اسکینڈل بے نقاب؛ ڈپٹی کمشنر کا سخت ایکشن، تقرری آرڈرز کی لازمی تصدیق کا حکم

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)ضلع بدین میں محکمہ تعلیم، صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ہائی ویز، بلڈنگز، آبپاشی، لائیو اسٹاک، پاپولیشن ویلفیئر اور دیگر سرکاری محکموں میں گریڈ ایک سے چار کی جعلی بھرتیوں کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے ذرائع کے مطابق بعض عناصر نے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کرکے جعلی تقرری اور پوسٹنگ آرڈرز جاری کیے جس کے باعث متعدد افراد دھوکہ دہی کا شکار ہوئے اس صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر بدین نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو "انتہائی اہم” نوعیت کا مراسلہ جاری کرتے ہوئے سخت ہدایات دی ہیں کہ کسی بھی امیدوار کو حاضر کرانے یا تقرر دینے سے قبل اس کے تقرری یا پوسٹنگ آرڈر کی مکمل جانچ پڑتال اور تصدیق لازمی طور پر کی جائے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ضلع میں مختلف محکموں کے ایک سے چار گریڈ تک کے جعلی تقرری اور پوسٹنگ آرڈرز گردش میں ہونے کی مستند شکایات موصول ہوئی ہیں لہٰذا ایسے کسی بھی آرڈر پر عمل درآمد نہ کیا جائے جو ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق جاری نہ کیا گیا ہو مراسلے کے مطابق اگر کوئی افسر تصدیق کیے بغیر کسی جعلی دھوکہ دہی پر مبنی یا غیر مجاز تقرری کے حکم پر عمل درآمد کرتا ہے یا ایسے امیدوار کو جوائننگ دیتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ افسر پر عائد ہوگی اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ڈپٹی کمشنر بدین نے مزید ہدایت کی ہے کہ تمام محکمے اپنے ماتحت عملے کو بھی اس حوالے سے آگاہ کریں اور ہر تقرری کے حکم کی متعلقہ مجاز اتھارٹی سے تصدیق کے بعد ہی امیدوار کو جوائننگ دی جائے تاکہ جعلی بھرتیوں کے ذریعے سرکاری نظام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے ذرائع کے مطابق اس مبینہ جعلی بھرتی اسکینڈل کے باعث متعدد افراد مالی نقصان کا شکار ہوئے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اس فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے واضح رہے کے بدین کے سابقہ ڈی سی او رفیق قریشی کے دور میں بھی ساٹھ سے زیادہ محکمہ روینیو بدین میں جعلی بھرتیاں کی گئی تھیں جس کے خلاف محکمہ روینیو کے ملازمین کی ایمپلائز یونین کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا اور بعد میں یونین کے عہدیداران کے بیٹے بھائی بھتیجوں کو بھی نوکریوں کے آ رڈر دیکر خاموش کرادیا گیا تھا اور اس اسکینڈل کا مکھیہ دو ہزار چار میں ضلعی حکومتوں کے دور میں ساتویں اسکیل میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والا اس وقت کے ڈی سی او اور ای ڈی او فنانس بعد کا انتہائی چہیتہ جو آج تک ڈی سی آفیس میں ایک بڑی سیٹ پر براجمان ہے جس کو کرپشن اور محکمہ روینیو کے اعلیٰ افسران اور سیاسی شخصیات کی آشیرباد حاصل ہے جس کے لیئے مشہور ہے کے وہ پانی کے کولرز میں کرپشن کی رقم بھر کر کراچی پہنچا تھا تھا جس کے عیوض میں اس کو لوکل گورنمنٹ نظام ختم ہونے کے بعد محکمہ روینیو میں ضم کرایا گیا اور س سے تیس سال سینئر ملازمین کو نظر انداز کرکے غیر قانونی ترقیاں دیکر سترہ گریڈ کی پوسٹ پر ڈی سی بدین کی آ فیس بٹھادیا گیا لیکن اس کے پاس اضافے انیس گریڈ کے افسر کی چارج بھی ہے اس وقت اربوں روپے کی مالیت کی جائیدادوں کا مالک بھی ہے جعلی ۔وکریوں سمیت کئی کرپشن کے اسکینڈلز میں ملوث ہے لیکن اس کی پہنچ سندھ کے اعلیٰ بیورو کریٹس اور سیاسی شخصیات تک ہونے کی وجہ سے ہر کرپشن اور اسکینڈل کی فائل پر مٹی ڈال دی گئی ہے بدین میں ایک گریڈ سے چار گریڈ تک کی نوکریوں میں جعلی بھرتیاں اور ایک گریڈ سے چار گریڈ کے نوکریوں کے اگر آرڈر کو گیارویں اسکیل میں تبدیل کرنے کے اس اسکینڈل کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائے تو مزید انکشافات اور اس کرپشن میں ملوث افسران اور سیاسی شخصیات منظر عام پر آ جائینگی۔



