پراسرار شخصیت کے خفیہ دورے،عراقچی کی کانا پھوسی سے شہباز شریف کا رنگ فق:محسن نقوی کی ہنگامی انٹری!

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے میدانِ جنگ کے پیچھے ایک ایسی خوفناک اور پراسرار کہانی سامنے آئی ہے جس نے دنیا بھر کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ جب دنیا کی نظریں میزائل حملوں اور جنگی بیانات پر ٹکی ہوئی تھیں، تو ایک ایسی پراسرار ترین شخصیت پسِ پردہ ایران کے انتہائی خفیہ دورے کر رہی تھی جس کی بھنک کسی کو کانوں کان نہ ہو سکی۔ اس سنسنی خیز راز کا پردہ اس وقت چاک ہوا جب برگن سٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا پہلا براہ راست رابطہ شدید خطرے میں پڑ گیا۔ عین اس موقع پر جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کانفرنس روم میں داخل ہو کر وزیرِ اعظم شہباز شریف کے کان میں کچھ کہا تو حکومتی ایوانوں میں ہڑکمپ مچ گیا، جس کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو فوری طور پر اس سفارتی بحران کو ٹالنے کے لیے میدان میں اتارا گیا۔ اسی نازک ترین موڑ پر قطر نے اپنے سب سے معتبر اور پراسرار ترین مہرے کو دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا، جس نے محض 10 دنوں میں 4 مرتبہ تہران کا خفیہ دورہ کر کے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ٹوٹتے ہوئے مذاکرات کو بچایا۔

​اس خفیہ ترین اور بااثر ترین قطری ثالث کا نام ‘علی الزوادی’ ہے، جو قطری وزیرِ اعظم کے مشیرِ امورِ خارجہ ہیں لیکن ان کا کوئی سرکاری یا ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ تک موجود نہیں اور وہ جدید دنیا کی نظروں سے دور رہ کر کام کرتے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر پر مشتمل ایک انتہائی حساس ‘ڈی کنفلکشن سیل’ قائم کیا جا چکا ہے جو 24 گھنٹے فعال رہنے والی ریل ٹائم ہاٹ لائن پر کام کرے گا۔ اس سیل کا سب سے بڑا دھماکہ خیز پہلو یہ ہے کہ اس میں اسرائیل اور نیتن یاہو کو مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا جائے گا اور سی آئی اے سمیت القدس فورس کے اسٹریٹیجک مائنڈز اس خفیہ ترین مشن کا حصہ ہوں گے جہاں پاکستان دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان سب سے قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سنسنی خیز پسِ پردہ انٹیلیجنس کھیل، ۱۲ بلین ڈالر کے فنڈز کی منتقلی اور علی الزوادی کی نیتن یاہو کو معافی منگوانے کی اوول آفس کی اندرونی کہانی کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ وی لاگ آخر تک لازمی دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button