سندھ کی جھیلیں،ڈھورے،پران اور آبی راستے تباہی کے دہانے پر،آبی حیات اور ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھ کی جھیلیں، ڈھورے، پران اور آبی راستے، جو کبھی زندگی، روزگار، ماحولیاتی توازن اور قدرتی حسن کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج تیزی سے تباہی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ پانی کی شدید قلت، غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور زہریلے کیمیکلز کی آمیزش کے باعث متعدد آبی ذخائر مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں، جبکہ جو چند آبی راستے اور جھیلیں اب بھی پانی رکھتی ہیں، ان میں زہریلا اور کیمیکل ملا پانی چھوڑے جانے سے ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق زہریلے پانی کی وجہ سے آبی حیات، قدرتی گھاس اور دیگر آبی پودے تباہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں پرندوں کے مسکن ویران ہو گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں مچھلیوں کی ہلاکت اور آبی حیات کی تباہی ماہرینِ ماحولیات کے لیے بھی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ دوسری جانب نسلوں سے جھیلوں اور آبی راستوں سے وابستہ ملاح برادری شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ جو لوگ مچھلی کے شکار اور کشتی رانی کے ذریعے اپنا روزگار کماتے تھے، وہ آج بے روزگاری اور بدحالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی کشتیاں کناروں پر بے کار کھڑی ہیں اور متعدد خاندانوں کی روزی روٹی ختم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ماحولیاتی تباہی کی اس سنگین صورتحال کے باوجود متعلقہ اداروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ مقامی افراد اور ماحول دوست حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کی جھیلوں، ڈھوروں اور پرانے آبی راستوں کو بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، زہریلے پانی کے اخراج کو روکا جائے اور قدرتی آبی وسائل کی بحالی کے لیے جامع منصوبے تشکیل دیے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آج بھی سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں پڑھیں گی کہ سندھ کے ان آبی علاقوں میں کبھی مچھلیاں تیرتی تھیں، مہاجر پرندے آتے تھے اور ملاح اپنی کشتیوں کے ذریعے روزگار کماتے تھے۔ سندھ کی جھیلیں صرف پانی کے ذخائر نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی، روزگار اور قدرتی حسن کا اہم حصہ ہیں۔ فطرت کی بقا ہی انسان کی بقا کی ضمانت ہے، اس لیے ان آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور مؤثر کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔



