ایران سے معاہدے کے بعد امریکا پہلے سے زیادہ مشکل میں آگیا، اوباما کی ٹرمپ پر تنقید

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے ایران کے ساتھ 15 ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کے نتیجے میں امریکا پہلے سے بھی زیادہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سابق صدر باراک اوباما نے کہا کہ امریکا نے جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کیے، اپنی فوج پر غیرمعمولی دباؤ ڈالا اور اس دوران بڑی تعداد میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اس کے باوجود حالات تقریباً وہیں آ گئے ہیں جہاں جنگ شروع ہونے سے پہلے تھے بلکہ اب صورتحال پہلے سے بھی کچھ زیادہ خراب محسوس ہوتی ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔
باراک اوباما نے ایک بار پھر 2015 میں اپنی حکومت کے دوران طے پانے والے ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
سابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ میرے دور میں کیے گئے اس معاہدے کی بدولت ہی ایران نے جوہری ہتھیار بنانے روکے اور اس کے بدلے میں ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں نرم کی گئی تھیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد اس معاہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ایران نے اپنی جوہری صلاحیت میں مزید اضافہ کیا۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کی قیادت کے لیے سوئٹزرلینڈ کا مجوزہ دورہ مؤخر کر دیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر نئی پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں اور آبنائے ہرمز بھی کھل چکی ہے جب کہ لبنان میں بھی حزب اللہ اور اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے ہیں۔



