بدین:عوامی تحریک کی پانی کی قلت، مہنگائی اور منشیات کیخلاف احتجاجی ریلی اوردھرنا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت، مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم، خواتین کے قتلِ عام، مہنگائی اور منشیات کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے کورواہ میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا اس موقع پر عوامی تحریک کے رہنماؤں علی محمد پرویز، مجید ساگر پرھیاڑ، مہران درس، جاکھرو نوحانی، جیون کمار، سکندر درس، کریم لوہار، محمد علی ٹالپر، احمد خان رند اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں اس وقت مصنوعی طور پر قحط جیسی صورتحال پیدا کی گئی ہے۔ خریف کی فصلوں کی کاشت کا اہم موسم جاری ہے، لیکن سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں دیا جا رہا، جو دریائے سندھ کی مالک قوم کے ساتھ کھلی ناانصافی اور ظلم ہے۔ سندھ میں بیج کی نرسریاں سوکھ رہہ ہیں، زراعت کے لیے تو پانی میسر نہیں، جبکہ پینے کے پانی کا بھی شدید بحران پیدا کر دیا گیا ہے۔ کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں مطلوبہ مقدار میں پانی نہ چھوڑے جانے کے باعث سمندر سندھ کے متعدد دیہات نگل چکا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ کو خواتین کے لیے مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے، جہاں روزانہ معصوم اور بے گناہ بچیوں اور خواتین کا قتلِ عام جاری ہے۔ گزشتہ روز کورواہ میں بھی بے گناہ آمنہ خاصخیلی کو قتل کر دیا گیا، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے رنماؤں نے کہا کہ ضلع بدین سمیت سندھ بھر میں منشیات کا کاروبار عام ہو چکا ہے، جس میں بااثر عناصر اور حکومتی سرپرستی حاصل افراد ملوث ہیں۔ منشیات کی فروخت کے باعث نوجوان نسل تباہی کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے احکامات کے تحت ملک میں مصنوعی مہنگائی مسلط کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں غریب اور محنت کش عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے انہوں نے مزید کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم ملک کو توڑنے کی سازش ہے، جسے سندھ کی قوم کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ وفاقی حکومت کو نئے صوبے بنانے کے اختیارات دے کر سندھ کو تقسیم کرنے اور ملک کو 1971ء جیسے حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بدین سمیت پورے سندھ میں پانی کی قلت، منشیات اور کمر توڑ مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے۔ جھوٹی غیرت اور کاروکاری کے نام پر بچیوں اور خواتین کے قتلِ عام کو روکا جائے اور آمنہ خاصخیلی سمیت ایسے تمام واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے سخت قانونی سزا دی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button