شہبازحکومت جولائی میں فارغ؟محسن نقوی بمقابلہ سہیل وڑائچ،گلگلت بلتستان میں کہانی پھر بدل گئی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی دارالحکومت کے مقتدر حلقوں میں اس وقت شدید کھچڑی پک رہی ہے جہاں نظام کے سب سے تگڑے اور لاڈلے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ان کے انتہائی قریبی صحافی دوست سہیل وڑائچ کے درمیان بند کمروں کی لڑائی اب کھل کر میڈیا پر آ گئی ہے۔ سہیل وڑائچ کی جانب سے شہباز شریف حکومت کے جولائی کے بعد زوال پزیر ہونے اور مائنس فارمولے کی پیشگوئی پر محسن نقوی شدید سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے اپنے دیرینہ دوست کو عمر کا طعنہ دیتے ہوئے طنزیہ طور پر ریٹائر ہونے کا مشورہ دے ڈالا۔ محسن نقوی کے اس تیکھے وار پر سہیل وڑائچ نے بھی اپنے کالم کے ذریعے کرارا جواب دیتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ "وزارتیں اور حکومتیں عارضی ہیں جو آتی جاتی رہتی ہیں، مگر صحافت اور الفاظ ہمیشہ قائم رہیں گے۔” طاقتور حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت سے خوش نہیں ہے اور جولائی میں کسی بھی وقت بڑا اپ سیٹ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کی سیاست میں پانسہ پلٹ گیا ہے؛ استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی جانب سے 4 آزاد ارکان کو توڑنے کے بعد یہ تاثر تھا کہ گیم بدل گئی ہے، مگر اب پیپلز پارٹی نے مزید نشستیں حاصل کر کے پوزیشن مضبوط کر لی ہے اور ن لیگ کی حمایت سے وہاں جی پی پی کی حکومت سازی یقینی ہو گئی ہے۔
ایوانِ اقتدار کی اس اندرونی جنگ، محسن نقوی کی ناراضگی اور وفاقی حکومت کے مستقبل کی سنسنی خیز اندرونی کہانی جاننے کے لیے امداد سومرو کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔




