کم ازکم تنخواہ43،تنخواہ اور پنشن میں7فیصداضافہ،وزیر اعلیٰ سندھ نے3ہزار562ارب روپےکابجٹ پیش کردیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ سندھ آئندہ مالی سال27-2026ءکا3 ہزار 562 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیاہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں7فیصد اضافے، تعلیم کیلئے 620 ارب جبکہ صحت کیلئے 393 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کےکرم سے آج 13ویں مرتبہ سندھ کا بجٹ پیش کر رہا ہوں، مسلسل 11 بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے، کسی اور منتخب عوامی نمائندے کو مسلسل اتنی بار بجٹ پیش کرنے کا موقع نہیں ملا، اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں،ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی میری رہنمائی کرتی ہیں،سندھ کے عوام کی خدمت کے سفر میں اہلِخانہ کی قربانیوں اور تعاون کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت اور سماجی انصاف کی بنیادوں کو مضبوط کیا، بینظیر بھٹوکی جرات اور قربانیاں آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں، صدرمملکت کی رہنمائی اور مستقل حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں، بلاول بھٹو کا عوام دوست ترقی،سماجی انصاف کا وژن ترجیحات کا محور ہے، ہاریوں،محنت کشوں،خواتین اور نوجوانوں کی فلاح ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو قربانیوں اور خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا، پاک افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں، پاکستان خطے میں امن،استحکام،اصولی سفارت کاری کی مضبوط آوازبن کرابھرا، ایران بحران کے دوران پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خطےمیں امن اور مکالمے کا داعی ملک ہے، سندھ کے باہمت اور ثابت قدم عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، سندھ نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی استحکام کےلیے260ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا، 260ارب روپے کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے اپنے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا، سندھ نے قومی مفاد میں کردار ادا کیا مگر این ایف سی ایوارڈ کے تحت حقوق پر سمجھوتا نہیں کیا،سندھ کی عوام نے ہمیشہ ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا، سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی دونوں کوساتھ لے کر چلنے کی مثال قائم کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا،سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہاہے جبکہ صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 41 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جارہی ہے ۔

بجٹ کا خسارہ 36.9 ارب روپے متوقع ہےجبکہ آمدنی 3.525 کھرب روپے رکھی گئی ہے، سندھ کا بجٹ 4 اصولوں آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر مبنی ہے، وفاق کے ساتھ تعاون کے تحت ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کرکے 400 ارب روپے کرنا پڑا، وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا اور کہا کہ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button