ماتلی میں گیس چوری کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 60 سے زائد گھروں کو غیر قانونی سپلائی کا انکشاف

ماتلی ( رپورٹ ایم آر گدی\ جانو ڈاٹ پی کے ) ماتلی شہر میں گیس کے کم پریشر اور مختلف علاقوں خصوصاً دور دراز آبادیوں میں گیس کی عدم فراہمی سے متعلق شہریوں کی مسلسل شکایات کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی ماتلی کے ایس ڈی او انجینئر محمد عظیم پہنور نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ آپریشن ٹیم تشکیل دی اور اپنی نگرانی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں سرچنگ اور تکنیکی جانچ کا عمل شروع کیا، 48 گھنٹے تک جاری رہنے والی مسلسل کارروائی کے دوران ٹیم نے گیس چوری کے ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا، جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے 60 سے 85 گھروں کو گیس فراہم کی جا رہی تھی جبکہ اس کے عوض ماہانہ بنیادوں پر رقم وصول کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔ جوائنٹ آپریشن ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے زیرِ زمین بچھائی گئی غیر قانونی پائپ لائنیں نکال کر اپنی تحویل میں لے لیں، جس کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی کو ہونے والے کروڑوں روپے کے ممکنہ نقصان سے بچا لیا گیا۔ ایس ڈی او انجینئر محمد عظیم پہنور نے میڈیا اور شہریوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مخصوص علاقے میں گیس کے استعمال کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ تھا جبکہ وہاں قانونی گیس کنیکشنز محدود تعداد میں تھے، جس پر مزید تحقیقات کے بعد گیس چوری کے اس نیٹ ورک کا پتہ چلا۔ انہوں نے بتایا کہ گیس چوری میں استعمال ہونے والے پائپ شہریوں کی موجودگی میں نذرِ آتش کر دیے گئے تاکہ انہیں دوبارہ استعمال نہ کیا جا سکے۔ اس موقع پر جوائنٹ آپریشن ٹیم کے ارکان احمد ہالیپوٹا، سجاد میمن، احمد کھٹی، عمران خاصخیلی، ایاز ابڑو، شوکت پہنور، بشیر احمد، شہریار، ایاز سموں، اقبال خاصخیلی، اشوک ٹھاکر اور نعیم خاصخیلی بھی موجود تھے۔ ماتلی کے شہریوں اور سماجی حلقوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی ٹیم کی اس کارروائی کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیس چوری کے خاتمے سے شہر میں گیس پریشر کی صورتحال بہتر ہونے میں مدد ملے گی۔ شہریوں نے کمپنی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس چوری کے بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگانے والی آپریشن ٹیم کے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں تعریفی اسناد اور خصوصی انعامات سے نوازا جائے۔



