تھرپارکر میں پانی کی شدید قلت، مٹھی میں پانی کا ٹینکر 6500 روپے تک پہنچ گیا

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں پینے کے پانی کی قلت نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے باعث عام شہری خصوصاً غریب اور مزدور طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی میں پانی کا ایک ٹینکر 6500 روپے تک فروخت ہونے لگا ہے، جس کی وجہ سے متعدد خاندان صاف پانی حاصل کرنے سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی کی جانب سے بروقت پانی کی فراہمی نہ ہونے کے باعث شہر کے کئی علاقے پانی کے شدید بحران کا شکار ہیں، جہاں مکین پیاس اور پریشانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ادھر ضلع کے مختلف علاقوں، جن میں ونگو، کاجھر، نگرپارکر، وٹ، ڈھاٹ اور رن پٹ کے کنارے واقع دیہات شامل ہیں، پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ تعلقہ چھاچھرو کے متعدد علاقوں میں کنویں خشک ہو چکے ہیں، جس کے باعث لوگوں کے لیے پانی کا حصول انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام کوٹ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تھر کول منصوبوں سے خارج ہونے والا آلودہ اور مضر صحت پانی کھلے میدانوں میں چھوڑے جانے کے باعث کئی کنوؤں کا پانی کھارا اور غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اس پانی کے استعمال سے مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے پانی کے اس سنگین بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تھرپارکر میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ لاکھوں متاثرہ افراد کو اس بحران سے نجات دلائی جا سکے۔



