ایران سے معاہدے میں لبنان جنگ بندی بھی شامل ہوگی، امریکی عہدیدار

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سینیئر امریکی عہدے دار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے طے پانے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی اہلکار کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران، اسرائیل، لبنان اور خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے، جبکہ اس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نمایاں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے بدلے ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جوہری مواد حوالے کرنے پر آمادہ ہوگا۔
امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے لیے ابھی مقام اور تاریخ کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم یورپ ایک ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ایران نے افزودہ یورینیم کے مستقبل سے متعلق وضاحت پر اتفاق کیا، جس کے بعد معاہدے کی راہ مزید ہموار ہوئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ طے پانے کے بعد آبنائے ہرمز تمام عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔



