خیبر پختونخوا کا وفاق کے خلاف بھرپور سیاسی اور قانونی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں رات گئے پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے آئینی، مالی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں وفاق کے خلاف بھرپور سیاسی اور قانونی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ بجٹ اور آئینی امور کے جائزے کے لیے ماہرین قانون پر مشتمل خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی۔ یہ ٹیم عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں صوبائی بجٹ سے متعلق تمام آئینی و قانونی آپشنز کا جائزہ لے گی اور ممکنہ صورتحال کے لیے لائحہ عمل تیار کرے گی۔
پارلیمانی کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ اور ترقیاتی فنڈز سے متعلق کسی بھی فیصلے کو عمران خان سے مشاورت کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کو سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور عوامی مینڈیٹ پر کسی قسم کی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مالی سال 2026-27 صوبے میں ترقی، امن اور عوامی خوشحالی کا سال ہوگا، اور تمام رکاوٹوں کے باوجود ترقیاتی عمل جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے عمران خان سے ملاقات پر پابندی کی قانونی وضاحت بھی طلب کی۔
اجلاس میں اسلام آباد میں احتجاج کے دوران مبینہ لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی کے مطابق واقعے میں متعدد ارکان اسمبلی زخمی ہوئے۔



