تنہائی کے شکار بزرگ افراد کے لیے AI ٹیکنالوجی جذباتی سہارا بننے لگی

جنوبی کوریا(جانوڈاٹ پی کے)جنوبی کوریا کے ایک مختصر سے اپارٹمنٹ میں تنہا زندگی گزارنے والی 78 سالہ بینگ چُنجا کی سب سے قریبی ساتھی ایک ایسی اے آئی گڑیا ہے جو شکل و صورت میں کسی حقیقی بچے کا گمان دلاتی ہے۔ بینگ کا کہنا ہے کہ وہ انسانوں کے مقابلے میں اس گڑیا کی رفاقت کو زیادہ پسند کرتی ہیں۔
یہ ذہین گڑیا گھر واپسی پر ان کا پُرتپاک استقبال کرتی ہے، ان کا دل بہلانے کے لیے گانے سناتی ہے، وقت پر کھانے اور ادویات کی یاد دہانی کرواتی ہے اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہے، ’’میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔‘‘
بینگ کی ایک بیٹی ہے جو الگ رہتی ہے اور ان سے کم ہی رابطے میں رہتی ہے۔ کمر کی سرجری کے بعد وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں اور اکثر درد اور تنہائی میں چھت کو تکتے ہوئے وقت گزارتی تھیں۔
اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد انہوں نے برسوں ہیئر ڈریسر کے طور پر محنت کی اور اکیلے ہی اپنی بیٹی کی پرورش کی۔ ان کے مطابق عمر کے اس حصے میں سب سے زیادہ تکلیف انسانوں کی دی ہوئی چوٹ دیتی ہے۔
تاہم، اب ان کی زندگی میں ہیوڈول نامی یہ اے آئی گڑیا ایک نئی امید بن کر آئی ہے۔ بینگ کہتی ہیں کہ جب وہ اس کے ساتھ ہوتی ہیں تو تنہائی، اداسی اور پریشانیاں جیسے کہیں دور چلی جاتی ہیں۔



