​حکومتی اتحاد میں دراڑ:زرداری،بلاول اور نواز شریف،اقتدار کی کرسی کس کے ہاتھ؟

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​ملکی سیاست کے ایوانوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے، جہاں نواز شریف کے حالیہ بیانات نے سیاسی پنڈتوں کو نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کہاوت ہے کہ ’’نواز شریف کے دو بول اور دس خون معاف‘‘، اور یہی صورتحال اب حکمران اتحاد کے اندرونی خلفشار میں دکھائی دے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت، خاص طور پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان حالیہ سیاسی رویوں اور طرزِ عمل پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوالات گردش کر رہے ہیں کہ کیا یہ محض سیاسی حکمتِ عملی ہے یا واقعی باپ بیٹے کے درمیان کسی بڑے بریک اپ کی بنیاد پڑ چکی ہے۔

​سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی یہ خلیج صرف اقتدار کی شراکت داری کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے مستقبل کے سیاسی منظرنامے کے گہرے اثرات چھپے ہیں۔ زرداری کی مصلحت پسندی اور بلاول کے جارحانہ انداز کے مابین پیدا ہونے والا یہ تضاد جہاں حکومت کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے، وہیں نواز شریف کی خاموش یا دو ٹوک سیاست اس پورے کھیل کو ایک نیا رخ دے رہی ہے۔ آیا یہ حکومتی اتحاد اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے یا پھر یہ کوئی نیا سیاسی ڈرامہ ہے، اس کے تمام تر پہلوؤں اور اندرونی کہانی کو سمجھنے کے لیے سید عمران شفقت کا وی لاگ مکمل ملاحظہ کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button