مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے وکلا کو کیس سے متعلق میڈیا پر بات کرنے سے روک دیا گیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پنجاب بارکونسل میں لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق اور مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کا لائسنس معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران پنجاب بارکی ڈسپلنری کمیٹی نے رمشا اقبال اور ثاقب چدھڑ کے وکلا کو کیس سے متعلق میڈیا پر بات کرنے سے روک دیا۔

چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی عباس علی چدھڑ  کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی نے سماعت کی۔ دوران سماعت ایم پی اے ثاقب چدھڑ اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیٹی کے روبرو لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ نے کمیٹی سے استدعا کی کہ میاں علی اشفاق میرے وکیل ہیں انہوں نے میری ایما پرمیڈیاٹاک پرسب کچھ بولا۔ تمام باتوں کا میرے پاس ثبوت موجود ہے۔

وکیل میاں علی اشفاق نے بتایا میں نے اپنے کلائنٹ کا مؤقف میڈیا پربیان کیا ہے، ثاقب چدھڑ ممبر پنجاب اسمبلی ہے مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر سٹوری لگائی جس کے بعد این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرائی۔ 21 مئی کو این سی سی آئی اے میں انکوائری میں شامل ہوئے۔ رمشا اور مومنہ نے میڈیا سے ٹاک کی جس کےبعد ہم نے میڈیا سے گفتگو کی تمام باتوں کا ثبوت اورشواہد موجود ہیں۔

رمشا اقبال نے دلائل دیتے ہوئےکہا میں مومنہ کی بہن ہوں اس وجہ سے ان کے ساتھ کھڑی ہوں میرے اوپرجو الزامات عائد کیے سب بے بنیاد ہیں۔

چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی غلام عباس چدھڑ نے ریمارکس دیئےکہ دووکلا نے پارٹیوں کے مسئلے کو اپنی انا کا مسلہ بنالیا۔ کمیٹی کے سربراہ غلام عباس چڈھر نے کہا کہ کیس سے جڑا کوئی بھی وکیل کیس کے متعلق میڈیا سے بات نہیں کرے گا۔پنجاب بارکونسل نے سماعت  آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید خبریں

Back to top button