حکومت کی آئی ایم ایف کو اضافی محصولات اور ٹیکس اصلاحات تیز کرنے کی یقین دہانی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو نئے مالی سال 27-2026 میں مزید محصولات بڑھانے اور ٹیکس اصلاحات کا عمل تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے اور اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف بھی مقرر کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نئے ٹیکس اقدامات اور اصلاحات کے ذریعے جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ تین فیصد کے برابر اضافی آمدن حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ٹیکس چھوٹ اور مراعات میں کمی سے جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ 15 فیصد کے مساوی اضافی محصولات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اسی طرح ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان سے بھی اتنی ہی اضافی آمدن متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ محصولات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ٹیکس اصلاحات اور ریونیو نظام کی بہتری پر عمل درآمد مزید تیز کیا جائے گا، آئی ایم ایف نے دسمبر 2026 تک ایف بی آر وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 22 ارب روپے مقرر کیا ہے، جسے پروگرام کے تحت باقاعدہ پرفارمنس کے معیار کا درجہ دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے یقین دلایا ہے کہ بجٹ میں دیے جانے والے کسی بھی ٹیکس ریلیف سے ریونیو میں ہونے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ نئے ٹیکس اقدامات کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ محصولات کے اہداف متاثر نہ ہوں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ محصولات میں اضافے، ٹیکس اصلاحات اور ریونیو نظام کی بہتری سے مالیاتی استحکام کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔



