بدین:اسکول کے نائب قاصد کونامعلوم افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے،علاقے میں تشویش کی لہر

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو /ڈاٹ/پی کے)گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کے نائب قاصد علی حسن کھوسو مبینہ طور پر نامعلوم افراد کے ہاتھوں تحویل میں لے لیئے گئے، علاقے میں تشویش کی لہر تفصیل کے مطابق پنگریو کے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کے نائب قاصد علی حسن کھوسو کو ڈیوٹی سے واپسی کے دوران مبینہ طور پر نامعلوم افراد موٹر سائیکل سمیت اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد اہل خانہ اور شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق علی حسن کھوسو، جو گزشتہ پندرہ سال سے زائد عرصے سے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول پنگریو میں نائب قاصد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، معمول کے مطابق ڈیوٹی مکمل کرکے گھر جا رہے تھے کہ اسکول کے مرکزی دروازے کے قریب سادہ لباس میں ملبوس چند افراد، جو سیاہ رنگ کی آلٹو کار میں سوار تھے، انہیں مبینہ طور پر موٹر سائیکل سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے حوالے سے پنگریو پولیس سے رابطہ کرنے پر پولیس حکام نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس نوعیت کے کسی واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے پاس اس بارے میں کوئی سرکاری معلومات موجود ہیں۔ دوسری جانب بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ کارروائی حیدرآباد پولیس کی جانب سے کی گئی۔ ذرائع کے مطابق رند برادری سے متعلق ایک چوری کے مقدمے کی تفتیش کے دوران علی حسن کھوسو کا موبائل فون نمبر سامنے آنے پر انہیں پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق علی حسن کھوسو ایک محنتی اور ذمہ دار نائب قاصد ہیں جو پندرہ برس سے زائد عرصے سے ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد اسکول کے باہر سے لے جایا گیا۔ علی حسن کھوسو کے بھائی علی گل کھوسو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی کا رابطہ ایک پولیس اہلکار رازق ڈنو شورو سے ہوا تھا، جو پنگریو کا رہائشی اور اس وقت حیدرآباد میں تعینات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اہلکار نے ان کے بھائی کا موبائل نمبر حاصل کیا تھا، جس کے کچھ عرصے بعد وہ ڈیوٹی سے واپسی کے دوران لاپتا ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اہل خانہ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تاحال ان کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل سکی۔ واقعے کے بعد پنگر یو اور گردونواح میں خوف اور تشویش کی فضا پائی جا رہی ہے جبکہ شہری، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں



