راولاکوٹ میں خونی کھیل ؛ ریاست کی رٹ چیلنج!

راولاکوٹ: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)راولاکوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے ریاست کی رٹ اور کشمیر کاز کی آڑ میں جاری شر انگیزی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بنیادی سہولیات کے مطالبات کے نام پر شروع ہونے والی تحریک اب ایک خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے، جبکہ 38 میں سے 35 جائز مطالبات پورے کیے جانے کے باوجود مظاہرین کا رویہ ناقابل فہم رہا، جس کا مقصد محض انتشار پھیلانا تھا۔ راولاکوٹ کے سی ایم ایچ ہسپتال پر دھاوا بولنا اور سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانا ریاست کے خلاف کھلی بغاوت کے مترادف ہے، اور اس واقعے میں ملوث عناصر نے نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ چار اہلکاروں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کا باعث بنے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جو رہنما اس تحریک کو لیڈ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ واقعے کے وقت وہاں موجود تک نہ تھے، جس سے ان کے اپنے لوگوں کے ساتھ مخلص نہ ہونے کا پول کھل گیا ہے۔ ایسے عناصر جو پاکستان کی بقا اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچا کر بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ان کے خلاف اب سخت ایکشن ناگزیر ہے، کیونکہ ریاست کے لیے لازم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت وطن سے غیر مشروط محبت کو یقینی بنائے اور انتشار پھیلانے والے اس فتنے کو کچل دے تاکہ کشمیر کاز کو کسی بھی قسم کی ڈائیورژن یا نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
تفصیلات سینئر صحافی گوہر بٹ کے اس وی لاگ میں ملاحظہ کریں




