بھتہ خوروں، سفینہ ڈیلروں اور آوارہ افراد پر مشتمل کمیٹی مسترد کرتے ہیں، محمد خان لنڈ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سماجی رہنما محمد خان لنڈ نے کلوئی اسپتال کی نئی تشکیل دی گئی شہری کمیٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کمیٹی عوامی مشاورت اور کھلی نشست کے بغیر تشکیل دی گئی ہے، جسے شہر کے معزز شہری مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کلوئی ٹاؤن کے منتخب چیئرمین کو بھی کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ ماضی کی کمیٹیوں میں میگھواڑ، لنڈ، نہڑیو، بھیل، کولہی اور دیگر برادریوں کے معتبر اور سماجی طور پر فعال افراد کو نمائندگی دی جاتی تھی، جو اسپتال اور شہر کے مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرتے تھے۔

محمد خان لنڈ کے مطابق سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نہچل داس، جو کلوئی کے رہائشی تھے، اپنے دور میں اسپتال کے انتظامی امور بہتر انداز میں چلاتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نہچل داس کے تبادلے اور بعد ازاں ڈی ایچ او میرپورخاص کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد اسپتال سمیت غلام محمد راہو ڈگری کالج اور ہائی اسکول کلوئی کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق شہری کمیٹی اسپتال انتظامیہ کا احتساب کرتی رہی اور اسپتال میں مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہی، جس کی وجہ سے بعض بااثر حلقے ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایک ہی برادری کے افراد پر مشتمل نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر خواتین کو ہراساں کرنے، بھتہ خوری، سفینہ ڈیلنگ اور سوشل میڈیا پر معزز شہریوں کے خلاف مہم چلانے جیسے الزامات لگتے رہے ہیں۔

محمد خان لنڈ نے کہا کہ شہریوں کو کسی مخصوص برادری یا سیاسی وابستگی پر اعتراض نہیں، تاہم کمیٹی میں ایسے باعزت اور ذمہ دار افراد شامل ہونے چاہئیں جو اسپتال کی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ کمیٹی کی تشکیل سے مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہری کمیٹی کی ازسرِ نو تشکیل کے لیے تمام برادریوں، سماجی رہنماؤں اور شہریوں سے مشاورت کی جائے اور ایک نمائندہ، متوازن اور غیر متنازع کمیٹی قائم کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button