آئی ایم ایف قرض کیس: لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان کے آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرضے کے خلاف دائر سول نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھ دیے۔

جسٹس عاصم حفیظ نے ایڈووکیٹ طالب حین میکن کی جانب سے دائر درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قرض کا معاملہ حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک بین الاقوامی مالیاتی انتظام ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق آئی ایم ایف نے نہ تو درخواست گزار اور نہ ہی کسی پاکستانی شہری سے انفرادی طور پر قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت کے مطابق نظرثانی درخواست اُن متفقہ عدالتی فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی جن میں پہلے دعویٰ اور بعد ازاں اپیل مسترد کی جا چکی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست کی بنیاد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کو بنایا گیا، جبکہ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ پاکستانی شہریوں نے ذاتی طور پر قرض حاصل نہیں کیا، اس لیے وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قانونی ذمہ داری کے حوالے سے درخواست گزار کا براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا، اس لیے یہ دعویٰ قانوناً قابلِ سماعت نہیں تھا۔ عدالت کو نظرثانی درخواست میں ایسا کوئی قانونی یا آئینی نکتہ بھی نظر نہیں آیا جس کی بنیاد پر سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button