بیجنگ میں آرمی چیف کا شاندار استقبال: چین کا دفاعی تعاون میں تاریخی اضافے کا اعلان، امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی پاکستان اور سعودی عرب کو سنگین دھمکیاں!

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر بیجنگ میں اہم ترین سفارتی اور سٹریٹیجک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کا انتہائی کامیاب دورہ مکمل کرنے کے فوراً بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی بیجنگ پہنچے، جہاں چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم نے تمام روایتی پروٹوکولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آرمی چیف کا والہانہ استقبال کیا اور خطے میں امن کے لیے ان کے کلیدی کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ اس اہم ترین ملاقات کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے مطابق، پاکستان نے باضابطہ طور پر دفاعی اور سیکیورٹی امور میں چین کے تعاون کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ معتبر دفاعی ذرائع کی تصدیق کے مطابق، اس تاریخی پیش رفت کے تحت پاکستان چین سے ففتھ جنریشن کے 40 جدید ترین جے-35 (J-35) اسٹیلتھ لڑاکا طیارے اور مزید 40 جے-10 سی (J-10C) طیارے حاصل کر رہا ہے، جبکہ نیوکلیئر پاورڈ آبدوزوں کی فراہمی کے منصوبے پر بھی تیز رفتار پیش رفت جاری ہے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ 14 اگست کی پریڈ کے فلائی پاسٹ میں جے-35 طیارے پاکستانی فضائیہ کے بیڑے کا حصہ بن کر دنیا کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔
دوسری جانب، امریکہ اور مڈل ایسٹ کے محاذ پر ایک نئی سنسنی خیز کھینچا تانی شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی ساتھی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان، سعودی عرب اور قطر کو گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ان ممالک نے اسرائیل کے ساتھ ‘ابراہام ایکارڈز’ (Abraham Accords) کا حصہ بننے سے انکار کیا تو انہیں اپنے مستقبل کے تعلقات میں سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ تاہم، سعودی صحافی عبدالسلام صالح سمیت پاکستانی اور قطری مبصرین نے لنڈسے گراہم کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ عرب دنیا اور پاکستان کے فیصلوں کا تعین کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام (جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو) کے بغیر خطے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔
اسی دوران امریکی میڈیا نیٹ ورک سی بی ایس (CBS) نے ایک بڑا انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد اعلامیہ کے مجوزہ معاہدے پر واشنگٹن کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر جناب مجتبیٰ خامنہ ای کے ذاتی دستخطوں پر اصرار دراصل ایک گہرا "انٹیلیجنس ٹریپ” ہے۔ امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں اس بہانے ایران کے سپریم لیڈر کے خفیہ مواصلاتی ذرائع، سگنلز اور ان کی اصل لوکیشن کو ٹریک کرنا چاہتی ہیں تاکہ ‘ایکسس آف ریزسٹنس’ کے اس سب سے بڑے مرکز پر مستقل دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ اسی تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اچانک قطر پہنچے ہیں، جہاں وہ قطر میں منجمد 40 سال پرانے ایرانی فنڈز (جو کہ اب کمپوزٹ انٹرسٹ کے ساتھ 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں) کی بحالی اور امریکی چالوں کا توڑ نکالنے کے لیے قطری قیادت کے ساتھ انتہائی اہم حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ خطے کے اس بڑے دفاعی اور سفارتی معرکے کی تفصیلی اندرونی کہانی جاننے کے لیے ‘معظم فخر’ کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔




