ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا چین کے ساتھ مل کر دنیا کا سب سے بڑا سمارٹ آپریشن، حساس ڈرون اور سیٹلائٹ سسٹم ایران اسمگل کرنے کی اندرونی کہانی!

تہران: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) بین الاقوامی دفاعی اور جیوپولیٹیکل منظرنامے پر اس وقت شدید سنسنی پھیل گئی ہے جب امریکی جریدے فائننشل ٹائمز (Financial Times) کی خفیہ دستاویزات کے ذریعے یہ ہوش ربا انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے انتہائی سمارٹنس کا ثبوت دیتے ہوئے امریکی و عالمی پابندیوں کو یکسر ناکام بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ سے ٹھیک پہلے، لیٹ 2025 میں ایرانی انٹیلیجنس نے چین کی کمپنی ‘ٹیلیسن’ کے تعاون سے شنگھائی سے انتہائی حساس نوعیت کا 1.8 ٹن وزنی جدید ترین سیٹلائٹ اور ڈرون کمیونیکیشن اینٹینا سسٹم پروکیور کیا، جسے کمال ہشیاری سے دبئی کی جبل علی پورٹ اور راس الخیمہ کے راستے خفیہ طور پر اسمگل کر کے ایرانی بندرگاہ بندر عباس پہنچایا گیا، جبکہ مال بردار بحری جہاز نے پکڑے جانے کے خوف سے اپنا نیویگیشن ٹریکنگ سسٹم (ڈیسپشن) بھی مکمل طور پر بند رکھا تھا۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جس پورٹ ہب (دبئی) کو استعمال کر کے یہ اینٹینا ایران پہنچائے گئے، جنگ چھڑنے کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی اسی مخصوص برانڈ نے اسی اسمگل شدہ گائیڈنس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات (UAE) کی سرزمین پر 2800 سے زائد ڈرون اور میزائل داغے جنہوں نے شیشے کی عمارتوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسی ہائی ٹیک سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی بدولت ایرانی ڈرونز نے بلائنڈ مار کرنے کے بجائے امریکی ریڈار اور سرویلنس سسٹم کو اندھا کر کے 13 امریکی فوجی ہلاک اور ان کے 42 جنگی طیارے مار گرائے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کبھی بھی ایران میں امریکہ نواز حکومت نہیں آنے دے گا کیونکہ ایران کو بچانا بیجنگ کے عالمی سپر پاور بننے کے لیے ناگزیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایرانی افواج اب بھی ہائی الرٹ پر ہیں۔ خطے میں جاری اس بڑی خفیہ جنگ، ڈونلڈ ٹرمپ کی بے بسی اور عالمی طاقتوں کے اس چوہے بلی کے کھیل کی مکمل سنسنی خیز اندرونی کہانی جاننے کے لیے معروف دفاعی تجزیہ کار توصیف احمد خان کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔




