ننگرپارکر:گاؤں انٹری میں کنویں کا مبینہ زہریلاپانی پینے سے متعدد بیہوش افراد زیر علاج،دیہاتیوں کا احتجاج

ننگرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) تعلقہ ننگرپارکر کے گاؤں انٹری میں کنویں کا مبینہ زہریلا پانی پینے سے انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، جہاں اب تک جو بھی کنویں کا پانی پیتا ہے وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ چند روز قبل بے ہوش ہونے والے متعدد متاثرہ افراد کا اسلام کوٹ اور مٹھی کی سول اسپتالوں میں علاج جاری ہے، لیکن اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔

دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد نہ تو انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار افسر گاؤں پہنچا ہے اور نہ ہی محکمہ صحت کی ڈاکٹروں پر مشتمل کوئی ٹیم کنویں کا جائزہ لینے یا پانی کی جانچ کے لیے پہنچی ہے، جس کے باعث گاؤں میں خوف اور بے چینی کی فضا پائی جا رہی ہے۔

واقعے کے خلاف گاؤں کے مردوں، عورتوں اور بچوں نے احتجاجی دھرنا دیا، جہاں شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کنویں کے پانی کی فوری سائنسی جانچ کرائی جائے اور اگر کسی نے جان بوجھ کر پانی کو زہریلا کیا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

احتجاج کرنے والوں نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر متاثرہ دیہاتیوں کو صاف پینے کا پانی، طبی سہولیات اور تحفظ فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button