انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے فلوٹیلا کے گرفتار ارکان سے تضحیک آمیز سلوک کی ویڈیو شئیر کردی

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی اتمر بن گویر نے غزہ جانے والے گوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان سے اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کی بدسلوکی کی ویڈیو شیئر کردی۔
بن گویر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں فلوٹیلا ارکان کو ہتھکڑیوں میں زمین پر بیٹھا دیکھا جاسکتا ہے اور بن گویر کی جانب سے انہیں کہا جارہا ہے کہ ’اسرائیل میں خوش آمدید، یہاں کے مالک ہم ہیں‘۔
ایک اور ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون کارکن کو بن گویر کے سامنے ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگانے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بن گویر نے ویڈیو میں کہا کہ ’یہ لوگ ہیرو بن رہے تھے، اب ان کی حالت دیکھیں۔ یہ کوئی ہیرو نہیں بلکہ دہشت گردی کے حامی ہیں‘۔ بن گویر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ ان کارکنان کو زیادہ طویل عرصے تک قید میں رکھا جائے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ جانے والے فلوٹیلا کے کم از کم 87 کارکنان نے اسرائیلی حراست اور مبینہ بدسلوکی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب اٹلی نے فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور فلوٹیلا کے ارکان کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی شدید مذمت کی ہے اور اسرائیل سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر بن گویر کی ویڈیوز ناقابلِ قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلوٹیلا کے ارکان جن میں کئی اطالوی شہری بھی شامل ہیں کے ساتھ اس طرح کا سلوک انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اطالوی حکومت اعلیٰ ترین سطح پر فوری اقدامات کر رہی ہے تاکہ زیرِ حراست اطالوی شہریوں کی فوری رہائی یقینی بنائی جا سکے۔
اطالوی وزیرِ اعظم نے مطالبہ کیا کہ فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر معافی مانگی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر وزارتِ خارجہ اسرائیلی سفیر کو طلب کرے گی تاکہ اس معاملے پر باضابطہ وضاحت طلب کی جا سکے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 430 رضاکاروں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق زیرِ حراست رضاکاروں کو قونصلر نمائندوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
View this post on Instagram



