میں اپنے بچوں کو امریکا جانے یا وہاں تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ نہیں دونگا،جرمن چانسلر

برلن(جانوڈاٹ پی کے)جرمن چانسلر فریڈرک میرز کا کہنا ہے کہ میں فی الحال اپنے بچوں کو امریکا میں رہنے یا وہاں تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ نہیں دوں گا۔
فریڈرک میرز نے اس کی وجہ امریکا میں تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی ماحول اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کیلیے محدود مواقع کو قرار دیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جرمن چانسلر کا مذکورہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
کیتھولک کنونشن کے دوران نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر نے کہا کہ لوگ دنیا کی صورتحال کے بارے میں تباہی کے موڈ میں سوچنے کے بہت زیادہ عادی ہو چکے ہیں، شہری اپنے ملک کی صلاحیتوں کے بارے میں زیادہ پرامید رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا پختہ یقین ہے کہ دنیا میں ایسے بہت کم ممالک ہیں جو نوجوانوں کو اتنے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں جتنا کہ جرمنی کرتا ہے۔
’میں آج اپنے بچوں کو امریکا جانے، وہاں تعلیم حاصل کرنے اور وہاں کام کرنے کی سفارش نہیں کروں گا، صرف اس وجہ سے کہ وہاں اچانک ایک ایسا سماجی ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ آج امریکا میں بہترین تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی نوکری تلاش کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔‘
گزشتہ ماہ فریڈرک میرز نے کہا تھا کہ ایران کی جنگ میں امریکا کو ذلیل کیا جا رہا ہے، اس بیان پر ڈونلڈ ٹرمپ برہم ہوگئے تھے جبکہ چند دن بعد امریکا نے جرمنی سے اپنے فوجیوں کے جزوی انخلا اور یورپی یونین کی گاڑیوں پر ٹیرف میں اضافے کا اعلان کیا۔



