تھرپارکر میں منشیات فروشی بے قابو، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں منشیات کی فروخت پر قابو نہ پایا جا سکا۔ تعلقہ ننگرپارکر اور تعلقہ کلوئی میں کچی شراب، چرس، بھنگ، سفینہ، آئس اور کرسٹل جیسی خطرناک منشیات کا کاروبار خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی کے باعث منشیات فروش بے خوف ہو کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تعلقہ کے مختلف علاقوں، چھوٹے بڑے اسٹاپس، ہوٹلوں، اوطاقوں اور دیہی علاقوں تک منشیات کا جال پھیلنے سے نوجوان نسل تیزی سے تباہی کے کنارے پہنچ رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق کچی شراب اور بھنگ جیسی روایتی نشہ آور اشیاء اب آئس اور کرسٹل جیسی خطرناک منشیات میں تبدیل ہو چکی ہیں، جو نوجوانوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ کر رہی ہیں۔ کئی والدین نے اپنے نوجوان بچوں کی بگڑتی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے باعث روزانہ نئے نوجوان اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں منشیات کی فروخت کھلے عام جاری ہے، مگر پولیس اور متعلقہ اداروں کی خاموشی کے باعث منشیات فروش مزید طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اگر بروقت سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کلوئی کا امن، معاشرہ اور نوجوان نسل مکمل تباہی کی طرف چلی جائے گی۔ دوسری جانب سماجی، سیاسی اور علمی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت، اعلیٰ پولیس حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کلوئی تعلقہ میں کچی شراب، آئس، کرسٹل، چرس، بھنگ اور سفینہ کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بغیر کسی دباؤ کے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی اور موت کی راہ پر جانے سے بچایا جا سکے۔ ادھر ننگرپارکر سے بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مختلف اسٹالز، ہوٹلوں اور کیبنوں پر سرعام منشیات فروخت کی جا رہی ہے۔



