”صوبوں کے مال پر وفاق کی نظریں!بلاول بھٹو کا کڑا امتحان، اسلام آباد میں بڑے طوفان کی دستک

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی دارالحکومت اس وقت شدید سیاسی ہیجان کی زد میں ہے جہاں 28ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی (NFC) ایوارڈ میں تبدیلیوں کو لے کر پسِ پردہ بڑی تیاریاں جاری ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ وفاق کے مالیاتی بحران کو حل کرنے کے لیے صوبوں کے حصے میں کٹوتی چاہتی ہے، جس کی راہ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
سینئر صحافی امداد سومرو کے مطابق 8 جون کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جس سے قبل بلاول بھٹو زرداری طویل عرصے بعد اسلام آباد پہنچ رہے ہیں تاکہ اپنی پارٹی قیادت سے مشاورت کر کے حتمی لائحہ عمل طے کر سکیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے این ایف سی میں کٹوتی اور 18ویں ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات کی واپسی پر سمجھوتہ نہ کیا تو سندھ میں "آرم ٹویسٹنگ” (بازو مروڑنے) کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ماضی کی طرح نیب اور دیگر ادارے متحرک ہو سکتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے قریبی ساتھیوں کے خلاف پرانی فائلیں کھولی جا سکتی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی دو ٹوک موقف اپنا چکے ہیں کہ 18ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاق اپنی نااہلی چھپانے کے لیے صوبوں کے وسائل پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اسلام آباد میں بڑھتا ہوا یہ سیاسی درجہ حرارت آنے والے دنوں میں کسی بڑے تصادم یا پھر کسی خفیہ "گیو اینڈ ٹیک” (Give and Take) کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جس کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اسلام آباد میں ملاقاتوں کے بعد متوقع ہے۔




