بھارت پر مودی کا ہندوتوا نظریہ مسلط، مغربی بنگال میں منظم انتخابی دھاندلی کے الزامات

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارتی ریاست مغربی بنگال کے انتخابات کے حوالے سے مودی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلگام فالس فلیگ واقعے کی آڑ میں بہار کے بعد مغربی بنگال میں بھی منظم انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا گیا۔
بھارتی جریدے “دی وائر” نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مودی کی انتخابی کامیابی کے جشن کے پیچھے بدعنوانی اور منظم دھاندلی چھپی ہوئی ہے، رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً ایک کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے، جس کے باعث وہ حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ محض تضادات کی بنیاد پر 27 لاکھ شہریوں کو ووٹر فہرست سے نکالا گیا، جبکہ حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد 6 لاکھ نئے ووٹرز کے اضافے نے بھی انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دی وائر کے مطابق ہندوتوا نظریے کے حامی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے حامی گروہوں کے ذریعے مغربی بنگال میں ایسا سخت گیر نظام نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جسے ناقدین نے غزہ کی صورتحال سے تشبیہ دی ہے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے ایک متنازع بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے ہندوؤں کو مسلمانوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے کا مشورہ دیا جیسا اسرائیل نے غزہ میں کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے اس وقت تک کام نہیں کریں گے جب تک وہ اپنا مذہب تبدیل نہ کر لیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بی جے پی کے دیگر رہنما جن میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما شامل ہیں، مختلف مواقع پر مسلمانوں کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی حکومت نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور ہندوتوا ایجنڈے کے فروغ کے لیے بھارت جیسے ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک میں جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا اور لاکھوں شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی پر مسلسل انتخابی دھاندلی اور ووٹ چوری کے الزامات کے باعث بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔



