اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی ڈرامے شروع: پی ٹی آئی قیادت علیمہ خان کے خلاف کھڑی ہو گئی

راولپنڈی: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی خلفشار اس وقت شدت اختیار کر گئی جب پارٹی قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ علیمہ خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی، سینیٹرز اور عہدیداروں کو اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونے کی ہدایت کی تھی تاکہ حکومت پر عمران خان کے علاج اور رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ علیمہ خان پارٹی کی کوئی عہدیدار نہیں ہیں اور وہ صرف بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ ہونے کی ناطے قابلِ احترام ہیں، لیکن پارٹی ان کے احکامات کی پابند نہیں۔
دوسری جانب، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خان کے درمیان بھی شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے علیمہ خان کے رویے سے تنگ آ کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ عمران خان سے ملاقات کے دوران اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ارکانِ اسمبلی کا یہ فرض ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھائیں، لیکن انہوں نے علیمہ خان کی مخصوص کال پر عمل کرنے کے بجائے اسے ارکان کی اپنی صوابدید قرار دیا۔ اس وقت خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن قیادت کی جانب سے واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک سرد پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ علیمہ خان کا مؤقف ہے کہ اگر یہ ارکان اسمبلی میں موجود ہیں تو وہ صرف عمران خان کے نام کی وجہ سے ہیں، لہٰذا انہیں اپنی وفاداری بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ثابت کرنی چاہیے۔
تحریک انصاف کی قیادت میں بڑھتے ہوئے اس تنازع اور علیمہ خان کے سخت مؤقف کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ ملاحظہ کریں۔




