وزارت خزانہ پاکستان کا سائبر سکیورٹی پراہم اجلاس، ڈیجیٹل بینکنگ اور ادائیگی نظام کو لاحق خطرات پر تفصیلی بریفنگ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزارت خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجیکل خطرات اور تبدیل ہوتی ہوئی خطرناک صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے مالیاتی شعبے میں سائبرسکیورٹی کی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے ورچوئل اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں کمرشل بینکس کے صدور اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز، چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسرز بھی شریک ہوئے۔

اعلامیہ میں بتایا گیا انہوں نے کہا کہ سائبرسکیورٹی کو مضبوط بنانا نہ صرف مالیاتی انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ضروری ہے بلکہ پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی ترقی کے اہداف کی حمایت کے لیے بھی اہم ہے۔

اِسی طرح دوران گفتگو وزیرخزانہ نے مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز اور ٹیکنیکل ماہرین کی فعال شمولیت کی تعریف کی اور اہم مالیاتی انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ہم آہنگ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

وزارت خزانہ کے اعلامیہ میں کہا گیا محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے پاکستان کا مالیاتی نظام ڈیجیٹل ہوتا جا رہا ہے، سائبر لچک کو مضبوط بنانا ایک مرکزی پالیسی ترجیح ہونا چاہیے۔

اس موقع پر جامع بریفنگ دی گئی جس میں تبدیل ہوتا ہوا سائبر خطرے کا منظرنامہ پیش کیا گیا، بشمول اے آئی سے چلنے والے سائبر ٹولز کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی جو کمزور پہلو کو شناخت کرنے اور متعدد مراحل والے حملوں کو ناقابل یقین رفتار سے انجام دینے کے قابل ہیں۔

پریزنٹیشن میں ڈیجیٹل بینکنگ چینلز، ادائیگی کے نظاموں اور بنیادی مالیاتی انفراسٹرکچر میں ممکنہ خطرات کو اُجاگر کیا گیا اور تیاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

بریفنگ میں بین الاقوامی تجربات کا بھی حوالہ دیا گیا، جاپان اور بھارت جیسے ممالک میں حالیہ سائبر خطرے کے رجحانات کا ذکر کیا گیا جہاں مالیاتی نظاموں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارمز اور باہم منسلک نظاموں پر ہونے والے حملوں کا سامنا بڑھ رہا ہے۔

شرکا نے کہا کہ یہ پیش رفتیں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور ادارہ جاتی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے قیمتی اسباق فراہم کرتی ہے، ۔شرکا کو اے آئی سے چلنے والے ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کے حوالے سے بین الاقوامی پالیسی ردعمل کی ترقی سے آگاہ کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button