سندھ ترقی پسند مزدور فیڈریشن کی کال پر ریلوے اسٹیشن سے ریلی نکالی گئی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)سندھ ترقی پسند مزدور فیڈریشن کی کال پر ریلوے اسٹیشن سے ایک ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت ایس ٹی پی کے ضلعی صدر شاہنواز سیال، نائب صدر علی حیدر پنہور، ترقی پسند مزدور فیڈریشن کے ضلعی صدر سلطانہ بوہڑ، سلیمان ملاح، معشوق ملاح، اقبال برہیار، اسٹاف کے ضلعی صدر راجا چانڈیو، جنرل سیکریٹری دلبر لنڈ، ایس ٹی پی سٹی کے صدر یاسر سیال، نور احمد ملاح، اکبر بلیڈی، عبدالستار راہمون، محمد حنیف ملاح اور غلام ملاح نے کی ریلی شہر کا گشت کرتے ہوئے مارچ کی صورت میں ایوانِ صحافت اور بدین پریس کلب پہنچی جہاں یہ احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگئی۔ اس موقع پر حمالی مزدور یونین، آرمی شوگر ملز ورکرز یونین اور رکشہ ڈرائیورز نے بھی شرکت کی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شکاگو کے مزدوروں کو سرخ سلام پیش کیا اور کہا کہ حکمرانوں کی مزدور دشمن پالیسیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی محنت اور مزدوری سے ملک کو ترقی دینے والے مزدور آج بھی تین وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں اور تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مزدور چودہ گھنٹوں سے زائد ڈیوٹی کرتے ہیں، اس لیے سرمایہ دار اور جاگیردار حکمرانوں کو مزدور دوست فیصلے کرنے چاہئیں قررین نے مطالبہ کیا کہ کم از کم 50 ہزار روپے مقررہ تنخواہ پر عملدرآمد کرایا جائے، کیونکہ پرائیویٹ اسکولوں، پرائیویٹ اسپتالوں سمیت عام مزدوری میں اجرت بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ روز بروز بڑھتے نئے ٹیکسز اور ڈیزل و پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مزدوروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جس کے باعث عوام معاشی بدحالی کا شکار ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مہنگائی ختم کی جائے اور مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کیا جائے، بصورت دیگر حالات نئے شکاگو جیسے ہو سکتے ہیں۔



