حکمران طبقہ ہمیشہ سرمایہ داروں اور وڈیروں کے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ہے،عوامی تحریک ٹھٹھہ

ٹھٹھہ (جاوید لطیف میمن)مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر سندھی مزدور تحریک / عوامی تحریک ضلع ٹھٹھہ کی جانب سے پریس کلب میں پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں مزدوروں، ہاریوں، طلبہ اور سیاسی سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے محنت کش طبقے سے یکجہتی کا اظہار کیا۔پروگرام سے سندھی مزدور تحریک ضلع ٹھٹھہ کے صدر نور محمد کمبھار، عوامی تحریک ضلع ٹھٹھہ کے صدر رزاق چانڈیو، ایوب انڑ، مٹھا خان لاشاری، سندھی ہاری تحریک کے ضلعی آرگنائزر بلاول لاشاری، دریا خان زئور، سندھ کلچرل فورم کے چیئرمین صادق لاکھو، سندھی شاگرد تحریک کے ضلعی آرگنائزر علی اکبر لاشاری، سجاگ بار تحریک کے ضلعی صدر مالک رزاق چانڈیو، گھنور خان زئور، مارو خشک، صاحب خان کھوسو، ادریس پلیجو، امان اللہ بروہی، ستار پلیجو، اللہ بخش بلوچ، آفتاب بلوچ، جمال سوڈھو، عبداللہ چانڈیو، محمد خان سمون، انیل پلیجو، نیاز خشک، شوکت بلوچ، فاضل بلاول لاشاری اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکم مئی صرف ایک دن نہیں بلکہ مزدوروں کی صدیوں پر محیط جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کے حصول کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ پاکستان سمیت سندھ میں آج بھی مزدور طبقے کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ریاست کی ناکام اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں، نجکاری کے بڑھتے ہوئے رجحان، بے قابو مہنگائی اور بے روزگاری نے مزدوروں کی زندگی کو شدید عذاب بنا دیا ہے۔ صنعتی اور زرعی شعبوں سے وابستہ مزدوروں کی حالت انتہائی خراب ہے، جہاں نہ انہیں مناسب اجرت ملتی ہے اور نہ ہی ان کی محنت کی قدر کی جاتی ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ حکمران طبقہ ہمیشہ سرمایہ داروں اور وڈیروں کے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ہے، جبکہ محنت کش طبقے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ٹھیکیداری نظام، جبری برطرفیاں اور لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی مزدوروں کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مزدوروں کے حقوق کے لیے منظم، شعوری اور مسلسل جدوجہد ہی واحد حل ہے۔
رہنماؤں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت کو مہنگائی کی شرح سے منسلک کر کے فوری طور پر بڑھایا جائے؛ ٹھیکیداری نظام کو مکمل طور پر ختم کر کے تمام مزدوروں کے ساتھ انصاف کیا جائے؛ لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرا کر مزدوروں کو روزگار کا تحفظ فراہم کیا جائے؛ صحت، تعلیم اور سماجی سیکیورٹی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور مزدور خواتین کو برابر اجرت، تحفظ اور عزت والا کام کرنے کا ماحول فراہم کیا جائے۔
آخر میں رہنماؤں نے عزم کا اظہار کیا کہ اگر مزدوروں کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور ملک گیر سطح پر احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کو مزید مضبوط کریں۔



